وائرس پر کنٹرول کیلئے صدر ژی کی صدر ٹرمپ کو مدد کی پیشکش‎

Share this story

چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعے کے روز صدر ٹرمپ کو بتایا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اُنہیں چین کی مدد حاصل ہو گی۔

کسی بھی ملک کی نسبت، امریکہ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ نوے ہزار امریکی کرونا وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ نیو یارک اور نیو اورلینز جیسے شہروں کے ہسپتال، وائرس سے متاثرہ مریضوں سے نمٹنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔

چین کے صدر شی نے ٹیلی فون کے ذریعے امریکہ کو مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان کرونا وائرس سمیت مختلف موضوعات پر لفظی جنگ جاری۔

صدر ٹرمپ اور چند دیگر عہدیداروں نے وائرس کے سلسلے میں شفافیت نہ برتنے پر چین کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ بعض موقعوں پر صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کو ‘چائینہ وائرس’ بھی کہا تھا، جس پر چین نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ دونوں صدور کے مابین ٹیلی فون بات چیت کے ایک اقتباس کے مطابق، صدر شی نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا تھا کہ چین وائرس سے پھیلنے والی وبا کے بارے میں شفافیت برتتا رہا ہے۔

جمعے کے روز چین کے شہر وُوہان کو باہر سے آنے والی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ خیال کیاجاتا ہے کہ اسی شہر سے کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔ یہ شہر کسی بھی قسم کی ٹریفک کیلئے گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے بند تھا۔ تاہم، شہر سے گاڑیاں باہر نہیں جا سکتیں۔

وُوہان، صوبہ ہُوبے کا دارالحکومت ہے۔ اس صوبے میں، ،گزشتہ بدھ کو وہان کے علاوہ باقی تمام شہروں کیلئے سرحدی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ ووہان شہر میں آٹھ اپریل سےلوگوں کو شہر سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

جمعہ کی رات، ووہان شہر کی داخلی چوکی پر شہر میں داخلے کیلئے تین لینیں کھلی تھیں۔ لیکن، صرف چند ہی گاڑیاں شہر میں داخل ہونے کیلئے کھڑی تھیں۔ تاہم، ہر لین پر تعینات فوجی داخل ہونے والوں کا معائنہ کر رہے تھےکہ کہیں وہ بیمار تو نہیں ہیں۔

گیارہ ملین نفوس کی آبادی والے شہر کی شاہراہ پر نیلے اور سفید رنگ کے اشارے ہُو شین شان ہسپتال کی جانب اشارہ کر رہے تھے،جسے اب بند کر دیا گیا ہے۔ اس ہسپتال کو کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے، آٹھ دنوں میں تعمیر کیا گیا تھا، جو چین کی جارحانہ تنظیمی صلاحیتوں کا ثبوت ہے، گو وائرس کے پھیلنے کی ابتدا میں چین سےبھی غلطیاں ہوئیں۔

ووہان شہر کے اندر اور باہر، اس کے بہت سے شہری پھنسے ہوئے تھے۔ جمعے کی رات کو شہر آنے والی زیادہ تر کاروں کی نمبر پلیٹوں پر ووہان کے نمبر درج تھے، جو یہ ظاہر کر رہے تھے کہ یہ ووہان ہی کے شہری ہیں جو واپس آ رہے ہیں۔
 

Source: Voice of America

Share this story

Leave a Reply