#CoronavirusOutbreak: کورونا وائرس سے متعلق چند بنیادی سوالات اور ان کے جواب‎

Share this story

دنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 78000 افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 77000 صرف چین میں ہیں۔ اس وائرس سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2600 ہو چکی ہے۔

یہ مرض اب تک پاکستان سمیت دنیا کے 38 ممالک میں پھیل چکا ہے اور اسے عالمی صحت کے حوالے سے ایمرجنسی قرار دیا گیا ہے۔۔

جیسا کہ یہ وائرس کھانسی کے ذریعہ انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ الکوحل سے بنے ہینڈ سینیٹائزر یا گرم پانی اور صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرے کو بار بار چھونے سے اجتناب کریں۔

اس کے علاوہ، آپ کو کسی بھی ایسے شخص سے رابطے سے گریز کرنا چاہیے جسے کھانسی، زکام یا بخار کے شکایت ہو۔ جو بھی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہے اسے فوراً اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔

بی بی سی نیوز کی ہیلتھ ٹیم نے اس وبا کے متعلق قارئین کے مختلف بنیادی سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

کیا کورونا وائرس فلو سے زیادہ نقصان دہ ہے؟

ابھی ان دونوں بیماری کا براہ راست موازنہ کرنا قبل از وقت ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ دونوں وائرس انتہائی خطرناک ہیں۔

اوسطاً کورونا وائرس سے متاثرہ شخص دو سے تین دیگر افراد کو انفیکشن منتقل کرتے ہیں جبکہ فلو سے متاثرہ افراد اسے قریباً ایک دوسرے شخص تک پہنچاتے ہیں۔

تاہم، فلو سے متاثرہ افراد دوسروں کے لیے زیادہ تیزی سے متعدی ہو جاتے ہیں لہذا دونوں وائرس آسانی سے پھیل سکتے ہیں۔

کیا یہ وائرس جنگلی حیات کے ذریعہ پھیل سکتا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مہلک کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں کیسے منتقل ہوا اور یہ تقریباً یقینی ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی ابتدائی وباء کسی جانور کے ذریعہ ہی شروع ہوئی تھی۔ اس نئے انفیکشن کے ابتدائی واقعات کا سراغ جنوبی چین کی سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے ملتا ہے، جہاں زندہ جنگلی جانور بھی فروخت ہوئے جن میں مرغی، چمگادڑ اور سانپ شامل ہیں۔

البتہ کوئی جانور اس وائرس کو انسانی میں منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا ہے۔

چین سے باہر رہنے والے افراد کے لیے کسی جانور سے وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ہم اس وقت اس وبا کے مختلف مرحلوں پر ہیں جہاں یہ انسان سے انسان میں پھیل رہا ہے اور یہ ہی اصل خطرہ ہے۔

کورونا وائرستصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

کیا کورونا وائرس کھڑکی اور دروازے کے ہینڈل کو ہاتھ لگانے سے بھی پھیل سکتا ہے ؟

اگر کوئی متاثرہ شخص کھانسی کرتے ہوئے اپنے ہاتھ منھ پر رکھتا ہے اور پھر کسی چیز کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ سطح پر متاثر ہو جاتی ہے۔ دروازے کے ہینڈل اس کی اچھی مثال ہیں جہاں اس وائرس کے ہونے کا امکان ہو سکتے ہیں۔

تاہم اس بات کا ابھی تک علم نہیں ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس اس طرح کی سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی عمر دنوں کی بجائے گھنٹوں میں ہے لیکن یہ بہتر ہے کہ آپ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس سے متاثر ہونے اور پھیلنے کا امکان کم ہو۔

کیا موسم اور درجہ حرارت کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر اثر ڈالتا ہے؟

ہمیں ابھی اس وائرس کے متعلق بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ موسمی یا درجہ حرارت میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ پر کوئی اثرات مرتب کریں گے یا نہیں۔

چند دیگر وائرس جیسا کے فلو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنے اثرات مرتب کرتا ہے جیسا کہ موسم سرما میں یہ بڑھ جاتا ہے۔

مارس اور اس طرح کے دیگر وائرس کے متعلق چند تحقیق یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ آب و ہوا کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں جو گرم مہینوں میں قدرے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔

کیا آپ متاثرہ شخص کے تیارکردہ کھانے سے اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

کورونا وائرستصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

اگر کوئی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کھانا تیار کردہ ہے اور اس دوران حفظان صحت اور صفائی کا خیال نہیں رکھتا تو ممکنہ طور پر اس سے کوئی اور شخص متاثر ہو سکتا ہے۔ کورونا وائرس کھانسی کے دوران منھ پر ہاتھ رکھنے سے پھیل سکتا ہے اور اگر ایسے میں متاثرہ شخص نے ہاتھ اچھی طرح دھو کر کھانا تیار نہیں کیا تو اس کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ لہذا کھانےکو چھونے اور کھانے سے قبل اچھی طرح ہاتھ دھوئیں تاکہ اس کے جراثیم کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

اگر آپ ایک مرتبہ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں تو کیا اس وائرس کے خلاف آپ کی مدافعت بڑھ جاتی ہیں؟

جب لوگ کسی انفیکشن یا بیماری سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تو ان کے جسم میں اس بیماری سے دوبارہ لڑنے کی کچھ یادداشت رہ جاتی ہے۔ تاہم یہ مدافعاتی عمل ہمیشہ دیرپا یا مکمل طور پر موثر نہیں ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی بھی آسکتی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ انفیکشن کے بعد یہ مدافعت کب تک چل سکتی ہے۔

کیا چہرے کا ماسک وائرس کے خلاف کارآمد ہے اور اسے کتنی مدت بعد تبدیل کرناچاہیے؟

کورونا وائرستصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

اس بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں کہ چہرے کے ماسک پہننے سے فرق پڑتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے منھ کے قریب ہاتھ لے جانے سے قبل یہ زیادہ موثر ہے اچھی حفظان صحت کے تحت آپ باقاعدگی سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔

کیا کورونا وائرس جنسی طور پر منتقل ہو سکتا ہے؟

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ بھی وائرس منتقلی کا ایک ذریعہ ہے یا نہیں جس کے بارے میں ہمیں فکر مند ہونا چاہئے۔ فی الحال، اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ کھانسی اور چھینکوں کو سمجھا جاتا ہے۔

کیا کورونا وائرس سے متاثرہ شخص مکمل صحت یاب ہوا ہے؟

جی ہاں. بہت سے ایسے افراد جو کوروناوائرس سے متاثر ہوئے اور ان میں بیماری کے معمولی علامات ظاہر ہوئی ان میں سے زیادہ تر افراد کی مکمل صحت یابی کی توقع کی جاتی ہے۔

تاہم، بزرگ افراد جنھیں پہلے سے ذیابیطس، کینسر یا کمزور مدافعتی نظام جیسی بیماریاں لاحق ہیں ان کے لیے یہ ایک خاص خطرہ بن سکتا ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک ماہر کا کہنا ہے کورونا وائرس کے معمولی علامات سے ٹھیک ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

کیا کورونا وائرس ووہان سے خریدی گئی اور دیگر ممالک میں بذریعہ ڈاک بھیجی گئیں اشیا کے ذریعہ منتقل ہو سکتا ہے؟

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی خطرہ ہے۔ کورونا وائرس سمیت کچھ بیماریاں ان سطحوں سے پھیل سکتی ہیں جہاں ان کے متاثرہ افراد کے کھانسی یا چھینکنے کے بعد چھوا ہو، لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس زیادہ دن زندہ نہیں رہتا ہے۔ کچھ بھی جو بذریعہ ڈاک بھیجا گیا ہے اس کے منزل مقصود تک پہنچنے تک اس سے آلودہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

کیا سانس کی اس بیماری سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کروانا ممکن ہے؟

اس وقت اس وائرس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اس قسم کے کورونا وائرس سے بچا سکے لیکن محققین اس کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی بیماری ہے جو انسانوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس اس کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ ہے۔

This article originally appeared on BBC Urdu
Share this story

Leave a Reply