امریکہ: میئر واشنگٹن بھی مظاہروں میں شریک، ملزمان کیخلاف کارروائی پر درجنوں پولیس اہلکارمستعفی

Share this story

واشنگٹن: پولیس حراست میں سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کے خلاف امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور واشنگٹن ڈی سی کے میئرمیوریل باؤزر نے بھی نسل پرستی کیخلاف احتجاج میں شرکت کی ہے۔

میوریل باؤزر نے مظاہرین سے خطاب میں کہا ہم سب کو دیکھنا چاہیے کہ واشنگٹن ڈی سی میں کیا ہورہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے یہ کام وفاقی امریکی حکومت دوسرے امریکیوں کے ساتھ کرے۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے وائٹ ہاؤس کے باہر پلازہ کا نام تبدیل کرکے ’بلیک لائیوز میٹر پلازہ‘ رکھا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف جانے والی اسٹریٹ پر لکھا ’بلیک لائیوز میٹر‘کو خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ’بلیک لائیوز میٹر‘ کی سٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں۔

امریکہ کے کئی شہروں میں مکمل اور جزوی کرفیو جاری ہے جارجیا، نیویارک، شگاگو، ٹیکساس اور فلوریڈا میں جزوی کرفیو ہے۔ کیلیفورنیا اور لاس اینجلس میں کرفیو ختم کر دیا گیا ہے۔

مرکزی لندن میں ہزاروں افراد مظاہرے میں شریک ہوئے اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔  مظاہرین نے ونسٹن چرچل کے مجسمے کو بھی نقصان پہنچایا۔

واشنگٹن میں بھی ہزاروں افراد نے وائٹ ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔ ہنگاموں کو روکنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے آس پاس امریکی فوجی بھی تعینات رہے۔

بروکلین، فلاڈلفیا، پنسلوانیا، اور شکاگو میں لاکھوں افراد نے پولیس تشدد کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ 

سانفرانسسکو کے تاریخی گولڈن گیٹ برڈج پر ہزاروں افراد نے جارج فلوئیڈ کے حق میں مارچ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر سیاہ فاموں کے حق میں نعرے درج تھے۔

امریکی ریاست اوریگان کے شہر پورٹ لینڈ میں سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے۔

پورٹ لینڈ میں مظاہرین نے توڑپوڑ کی اور پولیس اہلکاروں پر پتھراو بھی کیا گیا۔  پولیس نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔

 معمرشخص کو احتجاج کے دوران دھکا دے کر زخمی کرنے والے امریکی پولیس اہلکاروں کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔

نیویارک کے شہر بفلو میں احتجاج کے دوران دونوں پولیس اہلکاروں نے پچہتر سالہ معمر شخص کو دھکا دے کر گرایا تھا۔ جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔ 

واقعے کے بعد شہری حکومت نے دونوں اہلکاروں کو بے طرف کرکے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

 پیشی کے دوران سینکڑوں دیگر پولیس اہلکاروں نے اپنے ساتھیوں کو سزا دینے کیخلاف عدالت کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ اپنے ساتھیوں کے خلاف کارروائی پر بفلو پولیس کے57اہلکاروں نے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔

This article originally appeared on Nawa-e-Waqt

Share this story

Leave a Reply