جرمنی کی شوٹنگ: دائیں بازو کے انتہا پسند کے نو افراد کی ہلاکت کے بعد ‘نازیوں آؤٹ’ کے نعرے

Share this story

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ دائیں بازو کے انتہا پسند نے مغربی جرمنی کے ایک شہر میں شیشہ بار پر حملوں میں کم از کم نو افراد کو ہلاک کیا ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ ہنوؤ میں حملہ آور نے نسل پرستی کی بہت ساری علامتیں ظاہر کی ہیں۔

فیڈرل پراسیکیوٹر اس کیس کو دہشت گردی قرار دے رہے ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم پانچ ترک شہری تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 43 سالہ مشتبہ شخص نے خود کو ہلاک کیا۔ وہ اپنی والدہ کی لاش کے ساتھ گھر میں مردہ پایا گیا تھا۔

مقامی میڈیا نے ملزم کی شناخت جرمنی کے شہری ٹوبیس آر کے نام سے کی ہے۔ بلڈ ٹیبلیوڈ نے بتایا ہے کہ اس کے پاس آتشیں اسلحہ کا لائسنس ہے ، اور اس کی گاڑی میں گولہ بارود اور بندوق کے میگزین ملے ہیں۔

حکام ایک ویڈیو کی جانچ کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشتبہ شخص نے حملوں سے کچھ دن پہلے آن لائن پوسٹ کیا گیا تھا ، جس میں وہ دائیں بازو کی سازش کے نظریات کا اظہار کرتا ہے۔ جرمن میڈیا کا کہنا ہے کہ اس نے اعترافی خط بھی چھوڑا۔

یہ حملہ جرمنی میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے نظریات کا مظہر ہے۔ برلن میں تقریر کرتے ہوئے مسز مرکل نے کہا: “نسل پرستی ایک زہر ہے۔ نفرت ایک زہر ہے اور یہ زہر ہمارے معاشرے میں موجود ہے جو پہلے ہی بہت سارے جرائم کا سبب بن چکا ہے۔”

 

Share this story

Leave a Reply