HACKING the Indian call center who scammed us

انڈیا: کال سینٹر میں کام کرنے والے جعل ساز کے انکشافات‎

Share this story

رواں ہفتے بی بی سی نے انڈیا کے ایک کال سینٹر میں دھوکہ دہی اور فریب کے بارے میں دکھایا۔

اسے ایک شخص نے ریکارڈ کیا جس نے کمپنی کے سکیورٹی کیمروں کو ہیک کیا تھا۔ کمپنی کے سٹاف کو امریکہ اور برطانیہ میں مقیم متاثرین پر ہنستے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ جعل ساز کون ہیں اور اپنے کام کا دفاع کس طرح کرتے ہیں؟

آنکھوں پر چشمہ لگائے پیوش نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ڈھائی لاکھ ڈالر کیسے کمائے۔

اچھی کار سے لے کر ڈیزائنر کپڑے پہنے تک، انھوں نے بتایا کہ پیسہ کمانا آسان تھا۔ ایک معمولی گھرانے سے تعلق رکھنے والے پیوش نے فون پر دوسری جانب موجود لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنی قسمت بنائی۔

وہ کہتے ہیں ’راک سٹار بننے کے لیے ہمیں کچھ کرنا تھا۔‘

میں نے پوچھا ’ایک چور بننے کے لیے؟‘ تو انھوں نے بڑے مزے سے جواب دیا ’ہاں‘۔

پیوش مجھے دلی کے امیر ترین علاقے میں ایک دوست کے فلیٹ پر ملے۔

نوجوانوں کے جس گروپ سے میری ملاقات ہوئی ان میں ایک بات یکساں تھی اور وہ یہ کہ ان سب نے جعل سازی میں حصہ لینے والی انڈیا کی کال سینٹر کی صنعت میں کام کیا ہوا تھا۔

انڈیا میں بڑے پیمانے پر کال سینٹر کا کام ہوتا ہے اور مغربی ممالک سے نوکریاں یہاں آتی ہیں لیکن اس کام کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔

پیوش کالج چھوڑنے کے بعد پچھلے نو برس سے اس کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے کہیں بھی نوکری نہیں مل رہی تھی۔‘

ان کی کمپنی ’ٹیک سپورٹ سکیم‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ وہ اس میں لوگوں کی کمپیوٹر سکرینز پر یہ پیغام بھجواتے ہیں کہ آپ کا کمپیوٹر ’پورنو گرافک وائرس یعنی فحش تصاویر کے وائرس سے متاثر ہو گیا ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی وہ انھیں کال کرنے کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی دیتے ہیں۔

پریشانی کا شکار صارفین انھیں کال کرتے ہیں اور پھر پیوش کے ساتھی انھیں ایک ایسے مسئلے کو ٹھیک کرنے کے لیے بے وقوف بناتے ہیں جو موجود ہی نہیں ہوتا۔

پیوش نے مجھے بتایا کہ لوگوں کو دھوکہ دینا ایک آرٹ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

امریکہ میں بہت سے بوڑھے لوگ ہیں جن کے خاندان نہیں اور وہ تہنا اور معذور ہیں۔ اس لیے انھیں دھوکہ دینا آسان ہوتا ہے۔

میں نے اس شخص کی جانب دیکھا جو میرے سامنے بیگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا اور میں سوچ رہی تھا کہ وہ اتنا سخت دل کیسے ہو سکتا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ انھیں کیسا لگے گا اگر ان کے اپنے دادا، دادی اس طرح کی دھوکہ دہی کا شکار ہوں۔

انھوں نے کہا ’ہاں میں برا محسوس کروں گا۔۔۔ میں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی۔‘

پیوش نے مجھے بتایا کہ کیسے انھوں نے ایک مرتبہ ایک خاتون کو مجبور کیا کہ وہ اپنی 100 ڈالر کی آخری جمع پونجی دیں صرف اس لیے تاکہ وہ اپنا ہدف پورا کر سکیں۔

انھوں نے مجھے بتایا ’اس وقت وہاں کرسمس کا تہوار تھا اور میں نے ان سے وہ 100 ڈالر لے لیے۔ وہ مجھے یہ رقم ادا کرتے ہوئے رو پڑیں اور یہ میری کی ہوئی سب سے بدترین کال تھی۔‘

معروف یوٹیوبر جم براؤنگ نے دلی کا ایک کال سینٹر، جسے امت چوہان چلا رہے تھے، کو ہیک کر کے اس کی ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔

اس کال سینٹر پر کیے گئے پروگرام کے بعد اس پر پولیس نے کارروائی کی اور اب امت چوہان حراست میں ہیں۔

پیوش نے خود کا کال سینٹر بنا رکھا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ کرنا آسان تھا۔ انھوں نے دفتر کے لیے جگہ کرایے پر لی اور جگہ کے مالک کو بتایا کہ وہ ایک مارکیٹنگ کمپنی شروع کر رہے ہیں۔

ان کا سٹاف رات گئے دیر سے کام کرتا تھا کیونکہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان وقت کا فرق ہے۔ اس لیے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہوں۔

دفتر کے سربراہ کی حیثیت سے پیوش یہ ہر وقت سوچنے پر مجبور رہتے تھے کہ نئے صارفین کس طرح بنائے جا سکتے ہیں جنھیں دھوکہ دے کر ان سے پیسے بٹورے جا سکیں۔

انھوں نے آئی آر ایس کے نام سے جعل سازی کی ایک نئی سکیم بنائی۔ اس میں امریکہ میں لوگوں سے کہا جاتا کہ انھیں ٹیکس کے ہزاروں ڈالر واپس ملنے والے ہیں اگر وہ پہلے 184 ڈالر جمع کروا دیتے ہیں۔

وہ لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو پولیس انھیں گرفتار کر لے گی۔

جب پیوش نے آغاز کیا تو انھیں ہر سیل پر ایک روپیہ دیا جاتا تھا۔ 100 ڈالر کی جعل سازی پر انھیں صرف 1.25 ڈالر ملتے تھے۔

لیکن باس بن کر وہ بہت پیسے کما رہے تھے۔ کچھ مہینوں میں تو وہ 50 ہزار ڈالر بھی گھر لے جاتے تھے۔

انڈیا میں بے روزگاری گذشتہ دہائیوں کے مقابلے بڑھ گئی ہے۔ جب سیم نے نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی تو انھیں ان کے ایک دوست نے ایک دفتر کے بارے میں بتایا جہاں انھیں اچھے پیسے ملیں گے اور زیادہ کام بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

انھیں انٹرویو کے دوران بتایا گیا کہ یہ سیلز کی نوکری ہے اور اس میں وہ امریکہ میں موجود صارفین کو چیزیں بیچنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن جب انھیں اس کے لیے تربیت ملتا شروع ہوئی تو انھیں احساس ہو گیا کہ وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔


تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

وہ بتاتے ہیں ’ایک ماہ کے بعد جب ہم (دفتر کے) فلور پر پہنچے، جہاں ہمیں رہنا تھا، ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ تمام چیز جعل سازی ہے۔‘

اس موقع تک سیم کو لگا کہ اب پیچھے ہٹنے میں بہت دیر ہو چکی ہے۔

اس دور کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ میں ایک ایم بی اے گریجویٹ سے زیادہ پیسے کما رہا تھا اور میرے پاس کوئی کالج ڈگری بھی نہیں تھی۔

’میں بہت شراب پیتا تھا، پارٹیز کرتا تھا، آپ اتنے پیسوں کے ساتھ کیا کریں کہ اگر آپ نے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہی نہ کی ہو۔‘

دوسرے جعل ساز لوگوں کی طرح سیم نے اپنے ضمیر سے مقابلہ کیا اور پھر خود کو سمجھایا کہ اس سے وہ امیر ہوجائیں گے۔

’میں اس بات کو اہمیت دیتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اپنے کھانے پینے کے پیسے مجھے دے رہے ہوں۔۔۔ اس لیے میں بڑے لوگوں سے پیسے مانگتا تھا جو اسے برداشت کر سکتے ہوں۔‘

ایک شخص کس طرح بات کرتا ہے اور ان کے کمپیوٹر میں کیا ہے، اس سے وہ یہ اندازہ لگا سکتے تھے کہ کسی کی تنخواہ کتنی ہے۔

میں نے ان سے پوچھا ’کیا کسی سے پیسے چرانا ٹھیک ہے اگر وہ اسے برداشت کر سکتے ہوں؟‘

انھوں نے پراعتماد انداز میں جواب دیا ’ہاں۔‘

سیم کہتے ہیں کہ وہ اب بھی ایسے لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جن سے پیسے نہیں لیے گئے کیونکہ وہ غریب تھے۔ ان میں امریکہ میں ایک خاتون شامل ہیں جن کے تین بچے ہیں اور ایک فاسٹ فوڈ رستوران میں کام کرتی ہیں۔

وہ اب انھیں کمپیوٹر سے متعلق کسی بھی مسئلے پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ان کی کرسمس کارڈ لسٹ پر بھی موجود ہیں۔

سیم کہتے ہیں کہ اچھی تنخواہ کی وجہ سے انھیں ان کے والد نے عزت دی کیونکہ اب وہ ان کے پیسوں پر انحصار نہیں کرتے۔

لیکن ان کے والد اور دوست یہ نہیں جانتے کہ اتنے پیسے آتے کہاں سے ہیں۔

’جب وہ پوچھتے ہیں کہ میں کیا کرتا ہوں تو میں یہی بتایا ہوں کہ ایک آئی ٹی کمپنی میں سیلز مین ہوں۔‘

نوکری کے چھ ماہ بعد سیم کے کال سینٹر کے خلاف پولیس نے کارروائی کی اور اسے بند کردیا گیا۔ سیم گرفتاری سے بچ گئے اور اسی طرح کے ایک نئے کاروبار میں شامک ہو گئے۔

ان کے افسران بالا ایک دن سے بھی کم وقت تک جیل میں رہے اور ان کا خیال ہے کہ انھوں نے دوبارہ کسی مختلف نام سے اپنا کاروبار شروع کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کمپنیوں کے لیے آسان ہوتا ہے کہ وہ چھپ کر کام کریں اس لیے وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔

اب سیم ایک بہت ہی معروف ٹیکنالوجی کمپنی میں نوکری کرتے ہیں اور بہت پہلے ہی دھوکہ دہی کی دنیا چھوڑ چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مجھ سے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسروں سے یہ التجا کر سکیں کہ وہ قانونی اور جائز نوکریاں کریں جن سے انھیں طویل المدت فائدہ ہو اور جہاں انھیں حراست میں لیے جانے کا خطرہ بھی نہ ہو۔

سیم کے برعکس پیوش نے اپنی نوکری کے بارے میں اپنے خاندان سے کچھ نہیں چھپایا۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نے انھیں سب کچھ بتایا۔ وہ جانتے تھے کہ میں بہت کمائی کر رہا ہوں اور وہ خوش تھے۔

’جیسے ہی میں نے اس کی جینز پر نظر ڈالی تو میں نے دیکھا کہ اس پر لکھا تھا ’ہر چانس لو‘۔

لیکن تقریباً 10 سال تک دھوکہ دہی کے کام کے بعد انھوں نے پولیس کے کریک ڈاؤن کے خوف سے یہ کام چھوڑ دیا۔

وہ اس پر خود کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ پولیس کبھی انھیں پکڑ نہیں سکی اور اب وہ اپنے اقدامات پر شرمندہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں اس وقت میں نے اچھا محسوس کیا لیکن بعد میں یہ اتنا اچھا نہیں لگتا تھا۔

پیوش نے اس تمام آمدن کو دیگر قانونی بزنس کرنے کے لیے استعمال کیا لیکن آخر میں وہ سب کچھ کھو بیٹھے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ آگے اچھا نہیں ہوا۔

’میں کہوں گا کہ یہ قسمت تھی‘

پیوش اور سیم فرضی نام ہیں۔

Source: BBC Urdu

Share this story

Leave a Reply