انڈیا میں اسلاموفوبیا: مسلمانوں سے نفرت کی بازگشت خلیجی ممالک تک پہنچ گئی

Share this story

لیکن انڈیا میں اب مسلمانوں کے خلاف پھیلی نفرت یہاں سے نکل کر خلیجی ملکوں میں بھی پہنچ گئی ہے۔ عرب اور خلیجی ملکوں میں تقریباً 90 لاکھ انڈین شہری کام کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ان کی آبادی کل آبادی کا 27 فیصد سے زیادہ ہے۔

تقریباً دو ہفتے قبل دبئی میں اعلیٰ عہدے پر فائض پریتی گری نے ایک ٹویٹ میں تبلیغی جماعت کے بارے میں کہا ‘یہ کون لوگ ہیں اور ان کا مشن کیا ہے؟ کیا یہ پورے انڈیا میں جراثیمی جہاد پھیلانے کی سازش ہے؟ اگر یہ خود کو حکام کے حوالے نہیں کرتے تو ملک کو بچانے کے لیے انھیں ’انکاؤنٹر‘ میں ہلاک کر دینا ہی واحد راستہ ہے۔‘

پریتی نے ایک دوسری ٹویٹ میں کہا کہ ’تبلیغی سنی، دیوبندی دہشت گرد ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ بالی ووڈ سٹار عامر خان بھی تبلیغی سنی دیوبندی ہیں۔ اس کے باوجود ہندو ان کی فلمیں دیکھنے جائیں گے۔‘

ان کی اس ٹویٹ کا متحدہ عرب امارت میں نوٹس لیا گیا اور کسی نے اس کے جواب میں اسے دبئی پولیس کو ٹیگ کر دیا۔ پریتی نے اس ٹویٹ کے بعد اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ لیکن اس وقت تک ان کے خلاف کارروائی کی بات ہونے لگی تھی۔

اس کے علاوہ تقریباً ایک ہفتہ قبل سوربھ اپادھیائے نامی ایک ٹوئٹر یوزر کے سکرین شاٹ متحدہ عرب امارات میں پھیلنے لگے۔

سوربھ اپادھیائے کے ٹوئٹر پروفائل (جو اب بند ہو چکا ہے) کے مطابق وہ ایک پولیٹِکل کیمپین مینیجر ہیں اور پروفائل کے مطابق وہ دبئی میں مقیم ہیں۔

دبئی کے متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پر پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘سوربھ ہندو مسلم ایجنڈا چلا رہے ہیں اور اشتعال انگیز مواد کو فروغ دے رہے ہیں۔’

پولیس سے شکایات میں کہا گیا کہ کورونا وائرس پھیلنے کا سبب مسلمانوں کو بتا کر بھڑاس نکالی جا رہی تھی۔

اسی دوران سوربھ نے ایک ٹویٹ کیا جس کا سکرین شاٹ سوشل میڈیا پر شیئر بھی ہو رہا ہے۔ اس میں لکھا ہے ‘مشرق وسطیٰ کے ممالک جو کچھ بھی ہیں وہ ہم انڈینز کی وجہ سے ہیں جس میں اسی فیصد ہندو شامل ہیں۔ ہم نے کوڑے کے ڈھیر سے دبئی جیسے شہر کو کھڑا کیا ہے۔ اور اس بات کی عزت یہاں کا شاہی خاندان بھی کرتا ہے۔’

شہزادی کا نوٹس

ان سکرین شاٹس کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہند القسیمی نے ردعمل میں ٹویٹ کیا۔

شارجہ کے حکمراں شاہی خاندان کی شہزادی ہند القسیمی نے سوربھ اپادھیائے کو متنبہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’حکمران شاہی خاندان انڈیا سے بہت قریب ہے۔۔۔ لیکن آپ کا یہ برتاؤ قابل قبول نہیں۔ یہاں سبھی کو ان کے کام کا پیسہ ملتا ہے۔ کوئی مفت میں کام نہیں کرتا۔

’آپ اس سرزمین سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں اور آپ اسی کی تضحیک کر رہے ہیں۔ آپ کی تضحیک کا جواب دیا جائے گا۔‘

اس سے شہزادی ہند القسیمی خبروں کی زینت بنی رہیں اور انھوں نے بعد میں انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے سب کو پیار محبت سے متحدہ عرب امارات میں رہنے کی تلقین کی۔

انڈیا میں مسلسل مسلم مخالف خبروں کے نتیجے میں خلیجی ملکوں نے سوشل میڈیا پر سرگرم حکمراں بی جے پی اور ہندوتوا حامی عناصر کے پیغامات پر توجہ دینی شروع کی۔

اسی دوران بنگلور سے بی جے پی کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ کا عرب خواتین کے بارے میں 2015 کا ایک نسل پرستانہ اور جنسی طور پر ہتک امیز ٹویٹ زیر بحث آگیا۔

سوریہ نے یہ ٹویث اگرچہ ڈیلیٹ کر دیا لیکن تب تک عرب ممالک کے کئی اہم کارکنوں نے اس کا سکرین شاٹ لے لیا تھا۔ کویت کے سرکردہ اور معروف کارکن عبدالرحمن النصار نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ‘ایک انڈین رکن پارلیمان عرب خواتین کی توہین کر رہا ہے۔ ہم عرب باشندے ان کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

اس دوران اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی میں انسانی حقوق کی کمیشن نے ایک ٹویٹ میں کہا ’او آئی سی حکومت ہند پر زور دیتی ہے کہ وہ انڈیا میں بڑھتے ہوئی اسلام اور مسلم مخالف جذبات کو قابو کرنے اور حقوق انسانی کے بین الاقوامی ضابطوں کے تحت مظلوم مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے ۔‘

More on this story from BBC Urdu

Share this story

Leave a Reply