بھارتی کشمیر کا نیا قانونِ اقامت: 15 سال رہائش پذیز غیر مقامی شخص شہریت کا حقدار

Share this story

سری نگر — نئی دہلی کی جانب سے اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے اسے براہِ راست وفاق کے دو کنٹرول والے علاقوں میں تقسیم کرنے کے آٹھ چھ ماہ بعد بھارتی حکومت نے متنازع ریاست کے اُس حصے کے لیے جو اب یونین ٹریٹری آف جموں و کشمیر کہلاتا ہے، ایک نیا قانونِ اقامت تشکیل دیا ہے جس کے تحت علاقے میں 15 سال تک رہنے والا کوئی بھی شخص ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا حقدار ہوگا۔

یہ سند اسے جموں و کشمیر میں غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے اور سرکاری نوکری اور دوسری مراعات حاصل کرنے کا اہل بنا دے گی۔

نئے اقامتی قانون کا سابقہ ریاست کے لداخ علاقے پر، جو اب ایک الگ یونین ٹریٹری ہے، اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ سابقہ ریاست 1927 سے لاگو ‘سٹیٹ سبجکٹ لا” کی جگہ لے گا، جس کے تحت صرف اس کے پشتنی یا حقیقی باشندے ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیدار خرید اور بیچ سکتے ہیں اور سرکاری ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

اس قانون کے تحت ریاست کے مستقل باشندوں کو ایک خصوصی دستاویز جاری کی جاتی تھی جو ‘اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ’ کہلاتی تھی۔ متعلقہ حکام نے کچھ عرصہ پہلے اس طرح کی دستاویز جاری کرنا بند کردیا تھا۔ تاہم، سٹیٹ سبجیکٹ قانون پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں بھی نافذ ہے۔

خصوصی اختیارات کی منسوخی

بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35اے جموں و کشمیر کے اسٹیٹ سبجکٹ لا کو تحفظ فراہم کرتی تھیں۔ لیکن بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو پارلیمان میں پاس کی گئی ایک قرارداد اور صدر مملکت کی طرف سے ایک فرمان جاری کروا کر ان دونوں دفعات کو منسوخ کر دیا۔ جہاں دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو بھارتی وفاق میں ایک خصوصی آئینی پوزیشن حاصل تھی، وہیں اس کی ذیلی دفعہ 35 اے کے تحت ریاست میں زمینیں اور دوسری غیر منقولہ جائداد خریدنے، سرکاری نوکریاں اور وظائف حاصل کرنے، ریاستی اسمبلی کے لئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اس کے پشتنی یا مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔

اس آئینی شِق کے تحت جموں و کشمیر کے پشتنی باشندوں کا انتخاب کرنے اور ان کے لئے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار ریاستی قانون سازیہ کو حاصل تھا۔

ان دفعات کی منسوخی کے بعد نہ صرف ریاست کا اپنا آئین، جھنڈا اور ترانہ ختم ہوگئے ہیں، بلکہ اب بھارتی آئین اور بھارتی پارلیمان کی طرف سے پاس کئے جانے والے قوانین کا ریاست پر مکمل اور براہِ راست اطلاق ہے۔

تحفظات اور خدشات کا اظہار

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے عام لوگوں اور اور کئی سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ دفعہ 35 اے کو جموں و کشمیر میں غیر مسلموں کو بسانے کے لئے راہ ہموار پیدا کرنے کی غرض سے ہٹایا گیا ہے اور یہ نئی دہلی کی ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں یہ الزام لگاتی آئی ہیں کہ بھارت کشمیری مسلمانوں کے ساتھ وہی دہرانا چاہتا ہے جو اسرائیل نے فلسطینیوں کو اُن کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کے لئے کیا ہے۔ لیکن بھارتی حکومت میں شامل اہم شخصیات اور عہدیدار جن میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ بھی شامل ہیں ان خدشات کو بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔

منگل کو بھارت کی وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کیے گیے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، کوئی بھی شخص جو جموں و کشمیر میں پندرہ سال تک رہائش پذیر رہا ہو یا جس نے یہاں سات برسوں تک تعلیم حاصل کی ہو اور دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں یہاں قائم کسی ادارے سے حصہ لیا ہو، وہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا حقدار اور جموں و کشمیر میں سرکاری نوکریوں کے لئے درخواست داخل کرنے کا اہل ہوگا۔ تاہم، وفاقی حکومت کے وہ عہدیدار، سرکاری افسر، بنک ملازمین، قومی سطح کی یونیورسٹیوں کے وہ عہدیدار جنہوں نے کشمیر میں صرف دس برس تک ملازمت کی ہو کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کرسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، مذکورہ افراد کے بچے بھی اقامتی سند حاصل کرنے کے اہل ہونگے۔ جموں و کشمیر ریلیف اینڈ ریہیبلٹیشن کمشنر (مہاجر) کے ذریعے تارکین وطن کے طور پر رجسٹرڈ افراد کو بھی اس تعریف میں شامل کیا جائے گا۔

حکومت کے اس تازہ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ڈومیسائل کا یہ قانون شناخت پر مبنی رہائش کے بجائے ایک انتظامی معاملہ ہے۔

لوگوں میں اضطراب

اس نئے قانونِ اقامت کی وجہ سے مقامی لوگوں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ بُدھ کو کئی لوگوں نے سوشل میڈیا کا رخ کرکے اس پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کئی ایک نے یہ نکتہ اٹھایا کہ کشمیریوں سے اعلیٰ نوکریوں کا حق بھی چھین لیا گیا، کیونکہ نیا قانونِ اقامت اعلیٰ ملازمتوں پر غیر مقامی شہریو ں کے حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔

کئی سیاسی جماعتوں، ان کے قائدین، تاجر انجمنوں، وکلا کی تنظیم اور سول سوسائٹی گروپس نے بھی نئے قانونِ اقامت پر اپنے تحفظات اور کئی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کرونا وائرس یا کووڈ-19 کے خطرے سے پیدا شدہ صورت حال اور اس حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے خوف و ہراس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ قانون پاس کیا ہے۔

کھوکھلا قانون، زخموں پر نمک پاشی

سابق وزیرِ اعلیٰ اور علاقائی جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے نئے قانون کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اُن یقین دہانیوں کے برعکس ہے جو حکومتی عہدیداروں نے کرائی تھیں۔ انہوں نے کہا، “جب ہر ایک کی توجہ کووڈ-19 پر قابو پانے کی کوششوں پر مرکوز ہونی چاہیے تھی حکومت نے نیا قانونِ اقامت جاری کرنے کی طرف چھلانگ ماری۔ لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے”۔

انھوں نے کہا کہ ”نیا قانون اُن میں سے کسی بھی مدافعت کی پیشکش نہیں کرتا ہے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ آپ اس قانونِ اقامت کے کھوکھلے پن کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اُس پارٹی کا سربراہ بھی اس کی نکتہ چینی کرنے پر مجبور ہوگیا ہے، جسے حال ہی میں نئی دہلی کی آشیر واد سے تشکیل دیا گیا اور جو اپنے ساتھیوں سمیت وہاں (بھارتی دارالحکومت) میں نئے اقامتی قانون کے لیے لابنگ کر رہا تھا”-

اُن کا اشارہ جموں کشمیر اپنی پارٹی کی طرف تھا جس کی قیادت کو بعض سیاسی حلقوں کے مطابق بھارتی حکومت اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے قرب حاصل ہے۔

گزشتہ ماہ تشکیل دی گئی اس پارٹی کے صدر اور سابق وزیرِ خزانہ سید الطاف بخاری نے نئے قانون کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کووڈ-19 وبا ختم کرنے تک اسے التوا میں رکھا جائے۔
 

This article originally appeared on VOA Urdu

Share this story

Leave a Reply