امریکا نے کورونا وائرس پر چین کیخلاف مقدمہ دائر کردیا

Share this story

جیفرسن سٹی:   امریکی ریاست میسوری نے چین کیخلاف کورونا وائرس سے متعلق ناکافی معلومات دینے پر ملک کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست میسوری کے اٹارنی جنرل نے ملک کی فیڈرل کورٹ میں چین کیخلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں چین پر کورونا وائرس سے متعلق اہم اور ضروری معلومات کو چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ریاست میسوری کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ چین نے کورونا وائرس سے متعلق اہم معلومات کو دنیا سے چھپایا ہے خصوصی طور پر وائرس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کا نہ بتا کر دنیا کو خوفناک وبا کی آگ میں جھونک دیا اور عالمی ادارے کو بھی اس عفریت سے تاخیر سے آگاہ کیا۔

درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے ووہان میں ایک بڑی تقریب رکھی جس میں 4 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی اور پھر ان افراد کو دیگر ممالک بھیج دیا گیا جس سے یہ وائرس تیزی سے دنیا میں پھیلا۔ اس سے قبل کئی امریکی تاجر بھی چین کیخلاف ایسے ہی مقدمات دائر کرچکے ہیں۔

حیران کن طور پر ریاست میسوری کی جانب سے چین کیخلاف دائر مقدمے میں کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا جب کہ امریکی حکومت بارہا یہ الزام عائد کرتی ہے اور امریکی خفیہ ادارے اس پہلو پر سنجیدگی سے تفتیش بھی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی قوانین کے ماہرین نے امریکی ریاست میسوری اور تاجروں کی جانب سے چین پر مقدمات دائر کرانے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ چین ایک خود مختار ملک ہے جس کے خلاف کسی امریکی عدالت میں سماعت نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے امریکا کو عالمی عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 25 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ ایک لاکھ 77 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ سب زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں۔

Source Express News

Share this story

Leave a Reply