کورونا وائرس: پاکستان میں دو ہلاکتیں، نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد متاثرین کی تعداد 310

Share this story

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کی جانب سے کورونا وائرس سے دو ہلاکتوں کی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ کراچی میں جمعرات کو مزید نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 310 تک پہنچ گئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے بدھ کی شب ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں مردان اور ہنگو سے تعلق رکھنے والے متاثرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

وفاقی اور صوبائی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 211، پنجاب میں 33، خیبر پختونخوا میں 17, بلوچستان میں 23، گلگت بلتستان میں 13 اور اسلام آباد میں کورونا کے پانچ متاثرین موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق دو ہلاکتوں کے علاوہ اب تک پاکستان میں پانچ مریض اس وائرس سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ اس طرح پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں جمعرات کی صبح تک کورونا وائرس سے متاثر زیر علاج مریضوں کی تعداد 303 ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے بھی کورونا کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کیے ہیں اور جہاں سماجی روابط میں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ‎فوج میں اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ واپس آنے والوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے بی بی سی کی فرحت جاوید کو بتایا ہے کہ تمام فوجی ہسپتال مکمل طور پر تیار ہیں، ’ہر ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ قائم کر دیے گئے ہیں جبکہ وہاں ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔‘

ادھر ملک کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کے دورے سے واپسی پر پانچ دن کے لیے ’سیلف آئسولیشن‘ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شاہ محمود قریشی پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ چین کے دورے پر گئے تھے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو پہلے ہی پانچ اپریل تک بند کیا جا چکا ہے جبکہ ملک کی سرحدیں بھی پندرہ روز تک مکمل بند اور بین الاقوامی پروازیں محدود کی جا چکی ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بدھ کو بتایا کہ ملک بھر میں یکم جون تک تمام امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے بتایا کہ یکم جون سے پہلے کیمرج سکول سسٹم کے تحت امتحانات بھی نہیں ہوں گے۔

سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ

پاکستان میں صوبہ سندھ بدستور اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں جمعرات کو بھی مزید تین افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے بعد صوبے میں ایسے افراد تعداد 211 ہو گئی ہے جن میں کووڈ-19 کی تصدیق کی جا چکی ہے اور ان میں سے تین صحت یاب ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق تین نئے مریضوں کا تعلق کراچی سے بتایا گیا ہے جہاں اب کورونا کے متاثرین کی تعداد 59 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک مریض کا تعلق حیدرآباد سے بھی ہے۔

کورونا کی سکریننگ
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

سکھر بدستور صوبے میں سب سے متاثرہ علاقہ ہے جہاں اب تک 151 افراد میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

بدھ کو سکھر میں کورونا کے 17 نئے مریض سامنے آئے تھے جو تمام سکھر کے قرنطینہ میں رکھے زائرین ہیں جو تفتان کے قرنطینہ میں 14 دن کا وقت گزارنے کے بعد سندھ لائے گئے تھے جہاں ان کا ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق اب تک سکھر میں جن 303 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 151 زائرین میں اب تک کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بدھ کو بھی تفتان سے تقریباً 750 زائرین بسوں کے ذریعے سکھر پہنچائے گئے ہیں۔ سکھر پہنچنے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور انھیں لیبر کالونی کے قرنطینہ کے مختلف بلاکس میں رکھا جائے گا۔ ایس ایس پی سکھر عرفان سموں کے مطابق انھیں لانے والی بسوں ڈرائیورز اور عملے کے 70 افراد کو بھی قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

مرتضٰی وہاب کے مطابق صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے سرکاری سطح پر تین ہسپتالوں میں اب تک مجموعی طور پر 844 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، جن میں آغا خان ہسپتال میں 506، ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں 61 اور انڈس ہسپتال میں 277 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کی حکومت کو وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال صرف 200 تشخیصی کٹس ہی موصول ہوئی ہیں۔

پاکستانی شہری
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد بازار میں اشیائے خوردونوش خریدنے والوں کا رش دیکھا گیا ہے

لاک ڈاؤن کا آغاز

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں جزوی ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کیا ہے اور صوبے کے تمام ریستوران اور شاپنگ مراکز بدھ سے 15 دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں تاہم کریانہ سٹور کے علاوہ سبزی اور گوشت اور دیگر اشیائے ضرورت کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

فیصلے کے مطابق صوبے کے عوامی پارک اور کراچی میں ساحلِ سمندر بھی بدھ سے بند کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اقسام کی اجتماعات کے اجازت نامے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبے میں سرکاری دفاتر بھی جمعرات سے بند کر دیے جائیں گے جس کا نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری جاری کریں گے۔

بدھ کو پریس کانفرنس میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ریستورانوں کی جزوی بندش کا فیصلہ انتہائی مشکل صورتحال کے پیش نظر کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ کراچی کے اُن شہریوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنے کاروبار اور ریستوران بند کیے، تاہم اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ اس پر ابھی 100 فیصد عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدھ کو انھوں نے کراچی شہر کے کچھ ریستوانوں کو حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے، جس کے حوالے شہری انتظامیہ کو کاروائی کی استدعا کی ہے۔

منگاہ میں لاک ڈاؤن

سندھ میں کورونا سے بچاؤ کے اقدامات کے تحت صوبے کے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے پہلے ہی 31 مئی تک بند کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں شادی ہال، سینما گھر، مزار اور درگاہیں تین ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تین ارب رپے کا کورونا ریلیف فنڈ بھی قائم کیا ہے اور وزیر، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کابینہ کے تمام ارکان، پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی ایک ماہ کی تنخواہ اس فنڈ میں جمع کرائیں گے۔

خیبر پختونخوا میں دو ہلاکتیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں انتظامیہ نے منگاہ کی یونین کونسل میں ایک مریض کی کورونا سے ہلاکت کے بعد علاقے کو حساس قرار دیتے ہوئے وہاں سے آمدورفت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

منگاہ سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ سعادت خان ان دو مریضوں میں سے ایک تھے جن کی ہلاکت کی تصدیق حکام نے بدھ کی شب کی۔ سعادت نو مارچ کو سعودی عرب سے واپس آئے تھے۔

50 ہزار آبادی والی اس یونین کونسل کے داخلی، خارجی راستوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ منگاہ کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سعادت خان کی ہلاکت کے بعد اب علاقے کے تمام لوگوں کی سکریننگ کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جس کے لیے طبی ٹیمیں بدھ کو علاقے میں جائیں گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں دو افراد کی کورونا سے ہلاکت کے بعد اب اس وائرس کے 17 مریض موجود ہیں۔ صوبائی وزیرِ صحت تیمور جھگڑا نے بدھ کی شب جن دو مریضوں کی ہلاکت کی تصدیق کی انھیں حکام نے بدھ کو ہی کورونا کے مریضوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

منگاہ میں لاک ڈاؤن
مردان میں یونین کونسل منگاہ کے داخلی، خارجی راستوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں

سعادت خان کے علاوہ ہلاک ہونے والے دوسرے مریض کی عمر 36 برس اور ان کا تعلق ہنگو سے بتایا گیا ہے۔ مذکورہ مریض کا علاج پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں جاری تھا اور وہیں انھوں نے دم توڑا۔

نامہ نگار کے مطابق وزیرِ صحت کے مطابق اب صوبے میں جو مصدقہ مریض ہیں ان میں سے 15 کا تعلق زائرین کے اس گروپ سے ہے جو ایران سے واپس آیا ہے اور انھیں تفتان سے ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک مریض کا تعلق بونیر اور ایک کا مانسہرہ سے ہے اور مانسہرہ والے مریض بھی حال ہی میں برطانیہ سے پاکستان آئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں بھی حکومت نے کورونا سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بازار اب صبح دس بجے سے شام سات بجے تک ہی کھلیں گے تاہم کریانہ اور روزمرہ اشیائےضرورت کی دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہ سکتی ہیں۔

حکومت نے 15 دن کے لیے صوبے میں خریداری کے بڑے مراکز اور حجام کی دکانیں بند کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ عوامی مقامات اور شادی ہالوں کے علاوہ گھروں میں بھی تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے اور سیاحتی مقامات کی جانب سفر بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

تمام ریستورانوں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ اپنے احاطے میں کھانا نہیں کھلا سکتے تاہم ہوم ڈیلیوری کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اب سرکاری اجلاس میں صرف پانچ افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں اور اگر ضرورت ہوئی تو باقی افراد ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوں گے

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر پہلے ہی 15 روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی اور عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے،ہاسٹل بند کرنے اور جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں معطل کرنے کے فیصلے بھی کیے جا چکے ہیں۔

پنجاب میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ، نقل و حرکت پر پابندیاں

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ایران سے آنے والے زائرین کے پہنچنے کے بعد کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے۔ بدھ کو آٹھ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ منگل کو پنجاب میں 25 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

محکمۂ صحت کے ترجمان کے مطابق ان میں سے 20 ان زائرین میں سے تھے جو تفتان کے قرنطینہ میں وقت گزارنے کے بعد پنجاب لائے گئے تھے۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ لاہور میں چھ، ملتان میں پانچ جبکہ گجرات میں دو مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بدھ کو پریس کانفرنس میں نئے مریضوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکام اب ڈیرہ غازی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے تمام 736 زائرین کا ٹیسٹ کر رہے ہیں جبکہ وہاں تفتان سے آنے والے مزید 1276 زائرین کا بھی ٹیسٹ کیا جائے گا۔

محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ جن 28 مریضوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے انھیں آئسولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک صوبے بھر کے ہسپتالوں میں 199 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 39 زیر نگرانی افراد کے نتائج آنا باقی ہیں۔

سندھ کے بعد پنجاب کی حکومت نے بھی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق صوبے میں خریداری کے بڑے مراکز، رسیتوران اور دکانیں رات 10 بجے بند کر دی جائیں گی جبکہ شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے جائیں گے۔

حکومتِ پنجاب کے صوبے کے سب سے مقبول سیاحتی مقام مری کو بھی سیاحوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کو کہا ہے۔

کرونا
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

حکومت پنجاب کی ایپکس کمیٹے کے فیصلوں کے مطابق صرف ضروری سرکاری ملازمین کو دفتر آنے کی ہدایت کی جائے گی جبکہ دیگر ملازمین سے گھروں میں رہنے کو کہا جائے گا۔دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری حفاظتی انتظامات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے

خیال رہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے جمعرات کو کورونا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

صوبائی وزیرِ صحت یاسمین راشد کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور درپیش صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعلیمی ادارے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ ہر قسم کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے تاہم کاروباری سرگرمیاں محدود کرنے کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پنجاب کی صوبائی وزیر صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت علما ومشائخ سے بھی رابطے میں ہے کہ مساجد میں بھی لوگوں کے اکٹھے ہونے کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔

بلوچستان میں نقل و حمل پر پابندیاں

بلوچستان میں بھی کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہو چکی ہے جس کے بعد بلوچستان میں حکومت نے مسافروں کی بین الصوبائی نقل و حمل پر فوری پابندی لگا دی ہے جبکہ دو دن بعد صوبے کے اندر بھی مسافر بسوں کے ایک ضلعے سے دوسرے ضلعے تک سفر پر پابندی لگا دی جائے گی۔

کیا تفتان پاکستان کا ووہان ثابت ہو سکتا ہے؟

ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق چیف سیکریڑی بلو چستان کی زیر صدارت اجلاس میں باہر سے بسوں، کوچز اور منی بسوں کی آمد اور صوبے سے ان کی روانگی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اجلاس میں کوئٹہ شہر میں بھی لوکل بسوں کوچز اور منی بسوں کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔

اس اجلاس میں صوبے کی بڑی مارکیٹیں، شاپنگ مالزاور ریستوران بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت پہلے ہی حفاظتی اقدامات کے تحت تین ہفتے کے لیے صوبے بھر میں تمام مزار، درگاہیں، پارک، جمنازیم، کھیل کے میدان اور بچوں کے کھیل کھود کے مقامات بند کرنے کا حکم دے چکی ہے۔

چیف سیکرٹری کے مطابق یہ اقدامات لوگوں کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے ہیں اور لوگوں کو قربانی دینی پڑے گی کیونکہ پورے شہر میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں ایران سے نئے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تاہم وہاں کے قرنطینہ مرکز میں پہلے سے مقیم دوسرے صوبوں کے تمام زائرین کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

تفتان میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ قرنطینہ میں پہلے سے مقیم 1500 سے زیادہ افراد کا آخری قافلہ بدھ کو روانہ کر دیا گیا جن کا تعلق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تھا۔

پاکستان
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

ان کا کہنا تھا کہ ایران سے مزید زائرین کی آمد جاری ہے جن کا تعلق دوسرے صوبوں سے ہے اور ان کی تعداد رجسٹریشن کے بعد بتائی جا سکے گی۔

چیف سیکریٹری کے مطابق دوسرے صوبوں کے زائرین بسوں کے ذریعے ان کے متعلقہ صوبوں تک بھیجے جا رہے ہیں اور تفتان میں صرف بلوچستان کے زائرین ہی رکھے جائیں گے۔

صوبے کے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں قائم کیے گئے قرنطینہ میں سہولیات پر سوال اٹھائے جانے کے باوجود حکام نے افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بھی کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایک ویسا ہی قرنطینہ مرکز قائم کیا ہے۔

خیمہ بستی کی شکل میں قائم یہ تیسرا بڑا صوبائی قرنطینہ مرکز ہے۔ اس سے قبل تفتان کے علاوہ اور کوئٹہ شہر کے قریب میاں غنڈی میں قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے تھے۔

بلوچستان میں پی ڈی ایم اے کے ترجمان فیصل نسیم پانیزئی کا کہنا ہے کہ چمن میں قائم کیے گئے قرنطینہ مرکز میں ایک ہزار افراد کی گنجائش ہے تاہم لوگوں کو الگ الگ خیموں میں رکھنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے تفتان یا میاں غنڈی میں لوگوں کو اکٹھا رکھنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’سب کے لیے الگ الگ انتظامات کیے جانے کے باوجود لوگ اکٹھے ہوتے تھے۔‘

تفتان کے قرنطینہ مرکز میں اب بھی دو ہزار سے زیادہ زائرین موجود ہیں جنھیں ان کے متعلقہ علاقوں میں بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

مسلح افواج میں کیے جانے والے اقدامات

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاکستان کے دیگر اداروں کی طرح مسلح افواج میں بھی مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فوجی جوان عام طور پر بیرکوں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں جبکہ بسا اوقات ان کے زیرِ استعمال اشیا جیسا کہ اسلحہ کئی جوانوں کے استعمال میں آتا ہے۔ ان کے کھانے کا اہتمام فوجی میس میں ہوتا ہے اور ان حالات میں سماجی دُوری کا تصور تقریباً ناممکن ہے۔

پاکستان پریڈ
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

کورونا کی وجہ سے رواں برس 23 مارچ کی سالانہ پریڈ پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہے

اس صورتحال میں فوجی حکام تمام فارمیشنز سے ان افسران اور جوانوں کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جو حالیہ دنوں میں چھٹیوں پر ہیں یا چھٹی ختم ہونے کی صورت میں دوبارہ کام پر واپس آئے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید نے انھی اقدامات سے متعلق مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ افواج میں صفائی اور صحت سے متعلق پہلے ہی قوانین پر سخت پابندی کی جاتی ہے مگر عالمی وبا پھیلنے کے بعد زیادہ احتیاط کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘یہی وجہ ہے کہ فوج میں کورونا کا کوئی مریض نہیں ہے۔‘

کورونا وائرس: پاکستان میں 23 مارچ کو ہونے والی فوجی پریڈ منسوخ

نامہ نگار کے مطابق مسلح افواج میں اعلیٰ سطح کے تمام اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دورے معطل کر دیے گئے ہیں۔ نئے تربیتی کورسز معطل ہیں جبکہ پہلے سے جاری تربیتی پروگراموں کو قرنطینہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ فارمیشنز میں ‘دربار’ سمیت ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

فوج کی متعدد یونٹس میں مساجد میں باجماعت نماز کی بجائے علیحدہ نماز پڑھنے کی تجویزدی گئی ہے جبکہ فوجیوں کے ہاتھ ملانے اور بغلگیر ہونے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

اس سے قبل فوجی ہسپتالوں میں ان ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس سٹاف کے لیے تربیتی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا گیا جو آئیسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

Source: BBC Urdu
Share this story

Leave a Reply