امریکہ طالبان معاہدے میں پاکستان کسی گارنٹی کا حصہ نہیں،انٹرا افغان ڈائیلاگ آسان مرحلہ نہیں ہوگا :شاہ محمود قریشی

Share this story

اسلام آباد(ڈیلی  پاکستان  آن لائن) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن معاہدے میں صرف سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے، افغانیوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے، ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے، افغان مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی زیر بحث آئے گی،ہم معاہدے میں کسی قسم کی گارنٹی کا حصہ نہیں ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی زیر بحث آئے گی،ہم معاہدے میں کسی قسم کی گارنٹی کا حصہ نہیں ہیں، پاکستان نے صرف امن معاہدے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں طے کیا گیا ہے کہ 135 روز میں اتحادی فوجوں کے انخلاء کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گا،افغانیوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے، ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے،اگلا مرحلہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کا ہے جو آسان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ کچھ لوگ خطے میں امن نہیں چاہتے، پہلا مرحلہ طے ہو گیا دوسرے مرحلے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا،افغانیوں نے 19 سال تک جنگ کا سامنا کیا ہے، افغان صدر اشرف غنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذاکرات کاروں کی لسٹ تیار کریں اور مذاکرات شروع کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغان قیادت کو اپنی ذات سے بالا تر ہو کر عوام کا سوچنا چاہیے،امریکی صدر نے طالبان سے مذاکرات کا اہم فیصلہ کیا ہے، عالمی برادری کو بھی افغانستان میں امن عمل کی سپورٹ کرنی چاہیے، افغانستان کے لوگ امن چاہتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے بیس سال خون خرابہ دیکھا ہے۔

Share this story

Leave a Reply