بھارت سمجھ لےکسی بھی فوجی مہم جوئی کےنتائج اچھےنہیں ہونگے:ڈی جی آئی ایس پی آر

Share this story

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ مودی سرکار اپنی ہرناکامی کا حل پاکستان کے  خلاف مہم جوئی میں  ڈھونڈتی ہے کسی بھی فوجی مہم  جوئی کے سنگین نتائج ہوں گے جو ناقابل کنٹرول ہوں گے۔ بھارت  آگ سے نہ کھیلے، ہم تیار ہیں اور جواب دیں گے،کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے، فل مائنڈ کے ساتھ جواب دیں گے، اس کا مظاہرہ انہوں نے پچھلے سال دیکھ لیا ۔بھارت نے پاکستان کیخلاف  کوئی جارحیت کی تو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت ہم پر لانچ پیڈ کا الزام لگاتا ہے  بھارت جو الزام لگا رہا ہے اس کے شواہد  کا تو آج کل ہونا مسئلہ ہی نہیں ۔ یو این  مبصر گروپ کو مکمل آزادی ہے۔پاکستان سائیڈ پر جہاں چاہیں جاسکتے ہیں بھارت بھی یو این مبصر گروپ اور عالمی میڈیا کو رسائی دے تو چیزیں کلیئر ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ خطے میں تمام دیرینہ  معاملات کا تعلق  بھارت کے ساتھ ہے۔ پاکستان نے کسی قسم کی رسائی سے انکار نہیں کیا۔ عالمی میڈیا کو کئی بار ان علاقوں میں لے کر بھی جاچکے ہیں۔ بھارت وہاں بھی مداخلت  کررہا ہے جہاں اس کی سرحدیں نہیں ملتیں۔ بھارت سمجھ لے کسی بھی فوجی مہم جوئی  کے نتائج ہوں گے۔  

انہوں نے کہاکہ پچھلے کچھ عرصے  سے  لائن آف کنٹرول  پر صورتحال بہت تشویشناک ہے صرف اس سال 1229 بار سیز فائر خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔7 سویلین شہید اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں کئی بار بھارت کے کو  اڈکاپٹرز نے  ہماری حدود کی خلاف ورزی بھی کی ہے اور حال ہی میں ہم نے ان  میں سے کچھ مار گرائے  ہیں ۔ پاک فوج بہتر طریقے سے بھارتی خلاف ورزیوں کا جواب دے رہی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ سرحدپار سول آبادی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری بلا تفریق بھارتی جارحیت  کا نشانہ بن رہے ہیں جن میں عورتیں اور معصوم بچے بھی شامل ہیں جہاں تک کہ بھارتی سیکورٹی فورسز نے 7 سال کے معصوم بچے  کو بھی معاف نہیں کیا۔ ہزاروں کشمیری بھارتی پیلٹ گنز کاشکار ہورہے ہیں۔ عوامی ردعمل کا یہ عالم ہے کہ بھارتی سیکورٹی فورسز احتجاج کو دبانے  کیلئے کشمیری نوجوانوں کوشہید کرکے ان کی میتیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کررہی ۔ بھارت پاکستان پر  طرح طرح کی الزام تراشیاں کررہا ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پاکستان کورونا سے متاثرہ افراد کو سرحد پار بھیج رہا ہے۔ اس سے مقبوضہ کشمیر میں کورونا پھیلا ہے ابھی حال ہی میں بھارت نے  ایک عجیب غریب ڈرامہ کیا ہے جسے بھارت نے پلوامہ ٹو کہا ہے اس ڈرامے میں رات کو انہوں نے ایک گاڑی پکڑی اس پر فائر کیا اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر دھماکہ خیز مواد بھی تھا اور گاڑی سے جو بندہ نکلا وہ فرار بھی ہوگیا ساری رات وہ گاڑی بھی وہاں پر رکھی گئی اور اگلے دن پورے میڈیا کی کوریج کے سامنے اس گاڑی کو آبادی میں ہی تباہ کیا گیا تاکہ کسی قسم کے شواہد نہ مل سکیں یہ ساری  کارروائی ایک طے شدہ منصوبے کے تحت  چل رہی  ہے ۔ ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ ایک فل فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کی جاری ہے۔ وزیراعظم کے بیان کے  بعد انہوں نے یہ گاڑی والا ڈرامہ کیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ اس قسم کی مزید 3 گاڑیاں یہاں موجود ہیں یہ اگلے چندماہ میں پاکستان کیخلاف جارحیت کا ایک جواز بنایا جارہا ہے اس کا مقصد ہے کہ بھارت کو اس وقت کئی محاذوں پر  بہت شرمندگی  کا سامنا ہوا ہے ۔

بھارت کو لداخ میں چین کی درگت سے بڑی شرمندگی کا سامنا ہے, اس شرمندگی کو کسی نہ کسی طرح زائل کرنے کی کوشش کررہا ہے  ,انڈیا کو نیپال کے نقشوں کے معاملے میں بھی کافی شرمندگی  کا سامنا ہوا ہے,  کورونا کی مینجمنٹ کے باعث بھی بھارت کے اندر بہت سے مسائل سامنے آئے ہیں اور اب کورونا بڑے زور شور سے  پھیلا رہا ہے,جس سے اس کی معیشت کو دھچکے لگ رہے ہیں۔ پھر مقبوضہ کشمیر کے اندر5 اگست کے بعد بھارت نے جو اقدامات کیے وہ تمام اقدامات  ناکام ہوگئے۔اس وقت کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے پوری دنیا دیکھ رہی ہے, بھارت میں اسلامو فوبیا کی اٹھنے والی لہر کو پوری دنیا  نے محسوس کیا ہے۔

بھارت کو ہر طرح سے شرمندگی اور ناکامی کا سامنا ہے ۔ اب بھارت قیادت کا یہ خیال ہے کہ ان تمام چیزوں سے توجہ ہٹانے کا سب سے بہترین ان  کیلئے ذریعہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی  جارحیت  کی جائے اس لئے اس نے لائن آف  کنٹرول پر کشیدگی بڑھا رکھی ہے, ان کا خیال ہے کہ جب اس قسم کی  مہم جوئی  ہوگی تو اندرونی اور بیرونی سب توجہ  اس جگہ  پر آجائے گی۔ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کی تو  اس کوپورا جواب  ملے گا۔

اسے کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہونا چاہیے میں پھر کہتا ہوں کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف  کوئی جارحیت کی تو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

This article originally appeared on Nawa-e-Waqt

Share this story

Leave a Reply