ملکہ برطانیہ کا کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے سلسلے میں غیر معمولی خطاب 

Share this story

ونڈسر ، برطانیہ – ملکہ نے برطانیہ ، دولت مشترکہ ، اور دنیا سے خطاب میں COVID-19 وبائی مرض کے مقابلہ میں اتحاد کا مطالبہ کیا ہے ۔
 
ملکہ نے عالمی وبائی مرض سے لڑنے والے فرنٹ لائن کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور اتوار کو جاری بیان میں لوگوں کو گھر بیٹھنے کی ترغیب دی۔ اگرچہ تقریر کا مرکز برطانیہ تھا ، لیکن ملکہ نے اسے دیکھنے والے ہر شخص سے اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا ، “اگرچہ ہم نے پہلے بھی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے مگر  یہ ایک مختلف معاملہ  ہے۔ اس بار ہم سائنسی ترقی اور علاج کے  لئے اپنی جبلی  فطرت کے ساتھ  دنیا بھر کی تمام اقوام کے ساتھ مشترکہ کوشش میں شامل ہیں۔ ہم کامیاب ہوں گے اور یہ کامیابی ہم میں سے ہر ایک کی ہوگی۔ ہمیں  ابھی مزید برداشت کرنا پڑے گا لیکن  اچھے دن واپس آجائیں گے”۔

“ہم پھر اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں گے۔ ہم دوبارہ اپنے خاندان کے ساتھ رہیں گے۔ ہم پھر ملیں گے۔”

ملکہ 1952 میں تخت سمبھالنے  کے بعد ہر کرسمس کے تہوار  ہر دولت مشترکہ سے خطاب کرتی ہے ، لیکن یہ ان کے 68 سالہ اقتدار میں صرف پانچواں موقع ہے کہ انہوں نے برطانویوں سے  خصوصی طور پر بات کی ہے۔

انہوں نے فروری 1991 میں پہلی خلیجی جنگ کے آغاز میں ، اپریل 2002 میں اپنی والدہ کی وفات پر ڈیانا ، پرنسس  آف ویلز کی وفات پر ، اور جون 2012 میں اپنی ڈائمنڈ جوبلی کے موقے پر  ، برطانویوں  سے بھی خطاب کیاتھا۔

93 سالہ ملکہ نے بتایا کیا کہ ان کا پہلا عوامی خطاب 1940 میں ہوا تھا جب وہ اور ان کی بہن شہزادی مارگریٹ نے دوسری عالمی جنگ سے بے گھر ہونے والے  بچوں سے خطاب کیا تھا۔


Image copyright BBC

انہوں نے اس بیان میں، جو جمعرات کے روز ان کی رہائش گاہ ونڈسر کیسل میں ریکارڈ کیا گیا تھا، کہا کہ “آج ، ایک بار پھر بہت سے لوگوں کو اپنے پیاروں سے علیحدگی کا دردناک احساس ہوگا، لیکن اس وقت ہم دل کی گہرائی سے جان چکے ہیں کہ یہ کرنا صحیح ہے۔”

اتحاد ملکہ کی تقریر کا بنیادی موضوع تھا ، اس کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات پر پابندیوں کی اہمیت پر زور اور نوول کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا ، “ہم سب مل کر اس بیماری سے نپٹ رہے ہیں اور میں آپ کو یقین دلانا چاہتی  ہوں کہ اگر ہم متحد اور پر  عزم رہتے  ہیں تو ہم اس پر قابو پا لیں گے۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے سالوں میں ہر ایک اس بات پر فخر محسوس کر سکے گا کہ انہوں نے اس چیلنج کا جواب کیسے دیا۔”

Share this story

Leave a Reply