بیس لاکھ گھرانوں کے لیے سیلانی روٹی بینک کا راشن پراجیکٹ

Share this story

واشنگٹن — پاکستان کے ایک بین الاقوامی سطح کے فلاحی ادارے، سیلانی انٹرنیشنل ویلفیئر ٹرسٹ نے پاکستان بھر میں اپنے روٹی بینک پراجیکٹ کے ذریعے تین ماہ میں بیس لاکھ خاندانوں کو کھانا اور راشن فراہم کرنے کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔

اس وقت یہ ٹرسٹ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگوں کو ان کے گھروں تک کھانا اور راشن فراہم کر رہا ہے۔

ادارے کے ترجمان افضل چمڈیا نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان میں یہ ادارہ پہلے ہی روزانہ ایک لاکھ لوگوں کو پکا ہوا کھانا مفت فراہم کر رہا تھا اور کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد ادارے نے اپنی فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔


مفت کھانوں کی تقسیم، براہ راست گاڑیوں میں

انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ان لوگوں کے لیےخصوصی طور پر کھانوں اور راشن کا بندوبست کیا ہے جو روزانہ کی اجرت پر کام کرتے تھے اور کرونا وائرس کے نتیجے میں بندش کے باعث اب ان کے پاس کوئی روزگار نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ تین ماہ کے دوران بیس لاکھ خاندانوں کو پاکستان بھر میں راشن فراہم کرے گا۔

افضل چمڈیا نے کہا کہ کرونا بحران کے دوران سماجی فاصلوں کی ہدایت کے پیش نظر کھانوں اور راشن کی تقسیم کے انداز میں تبدیلی کی گئی ہے اور خاص طور پر کراچی میں پلوں پر لوگوں کو چھ چھ فٹ کے فاصلوں پر کھڑا کر کے راشن تقسیم کیا جاتا ہے یا گاڑیوں کے ذریعے ضرورت مندوں کے گھروں تک کھانا اور راشن پہنچا دیا جاتا ہے۔

عام حالات میں انہیں روٹی بینک کے مراکز سے یا ان کی بستیوں میں گاڑیوں کے ذریعے کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی میں دو پلوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں پندرہ سے بیس ہزار ضروت مند سماجی فاصلے کی ہدایت کے مطابق اکھٹے ہوتے ہیں، اور وہاں انہیں راشن تقسیم کر دیا جاتا ہے۔


مفت کھانوں کی تقسیم کے لئے سیلانی کے رضاکار سرگرعمل

انہوں نے بتایا کہ ادارے کے پاس ساڑھے تین ہزار تنخواہ دار ملازم ہیں۔ لیکن، اس وقت ان کے ساتھ بہت سے رضاکار شامل ہو گئے ہیں، جو تمام بڑے شہروں مثلاً اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ، کراچی، سکھر، حیدرآباد اور ٹھٹھہ میں ضرورت مندوں تک راشن پہنچانے میں مدد دے رہے ہیں۔

افضل چمڈیا نے کہا ہے کہ ان کے ادارے کا ملک بھر میں 125 شاخوں پر مشتمل ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے اور ادارہ پاکستان کی وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت کے تعاون سے بھی کئی فلاحی پراجیکٹس چلا رہا ہے، جب کہ اس کا فلاحی مشن برطانیہ، امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی جاری ہے۔
 

Source Voice of America

Share this story

Leave a Reply