دلی فسادات کے دوران مسلمانوں کے گھروں کو چن چن کر آگ لگائی گئی

Share this story

محمد مناظر ریاست بہار میں ایک کاشتکار کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کسی زمیندار کی ہاں کام کر کے اپنے خاندان کو بمشکل پال رہے تھے۔ محمد مناظر نے غربت سے چھٹکارا پانے کے لیے عشروں پہلے دلی کا رخ کیا۔

شروع میں وہ اپنے لاکھوں ہم وطنوں کی طرح دارالحکومت دلی کے گرد و نواح میں قائم جھگیوں میں رہنے لگے۔ انھیں کھجوری خاص کے علاقے میں کتابوں کی جلدیں بنانے والی ایک دوکان میں کام مل گیا۔ اس بستی میں شرح خواندگی قومی شرح خواندگی سے بہت کم ہے۔

جب جلدیں بنانے والی دکان بند ہوئی تو محمد مناظر نے اپنا کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھیں نے ایک ریڑھی خریدی اور اس پر گھر میں پکی ہوئی بریانی بیچنا شروع کر دی۔ محمد مناظر کا کاروبار چل نکلا اور ان کے حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’میں یہاں ایک ہیرو تھا، ہر کوئی میرا کھانا پسند کرتا تھا۔ میں ہر روز 15 کلو بریانی بیچتا اور روزانہ 900 روپے تک کماتا تھا۔‘

صرف تین برس پہلے محمد مناظر اور اس کے بھائی نے اپنی ساری جمع پونجی اکٹھی کر کے ایک تنگ گلی میں 24 لاکھ روپے کی مالیت سے ایک گھر خریدا۔

یہ کوئی بہت شاندار گھر نہیں تھا۔ اس دو منزلہ عمارت میں ہر منزل پر دو کمرے تھے۔ ایک منزل پر محمد مناظر آٹھ نفوس پر مشتمل خاندان کے ساتھ رہتے تھے جبکہ ان کے بھائی دوسری منزل پر اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔

محمد مناظر کا گھر دو خاندانوں کے لیے بہت تنگ تھا لیکن پھر بھی یہ ان کا گھر تھا جو انھوں نے زندگی بھر محنت کر کے بنایا تھا۔ اپنے خاندان کو دلی کے گرم موسم میں آرام مہیا کرنے کے لیے انھوں نے ایئرکنڈیشنر بھی لگوا لیا تھا۔

محمد مناظر کہتے ہیں کہ ’اپنا گھر بنانا میرا خواب تھا، اور یہ میرا واحد خواب تھا جو پورا ہوا۔‘

لیکن گذشتہ ہفتے محمد مناظر کا یہ خواب شعلوں کی نذر ہو گیا۔


تصویر کے کاپی رائٹMANSI THAPLIYALImage captionمحمد مناظر اپنے جلے ہوئے گھر کے باہر اپنے بیٹے کے ساتھ

چہروں کو ڈھانپے ہوئے اور ہیلمنٹ پہنے نوجوانوں نے محمد مناظر کے گھر کو لوٹ کر آگ لگا دی۔ یہ نوجوان ڈنڈوں اور پیٹرول سے بھری بوتلیں اٹھائے، جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے کھجوری خاص کی گلیوں میں داخل ہوئے۔ جے شری رام کا نعرہ اب ہندو ’ہجومی قاتلوں‘ کا جنگی نعرہ بن چکا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہونے والے تباہ کن مذہبی فسادات میں کھجوری خاص کے علاقے میں کسی شخص کی جان تو نہیں گئی، لیکن ایسی بے شمار شہادتیں موجود ہیں کہ مسلمانوں کے گھروں اور کاروبار کو ایک سوچے سمجھے انداز میں نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے نہ صرف کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ ایسی شہادتیں بھی موجود ہیں کہ انھوں نے بلوائیوں کی مدد کی ہے۔

کھجوری خاص کی گلیوں میں 200 گھر اور دوکانیں ہیں جن میں 20 فیصد مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔ یہ معلوم کرنا کہ یہ گھر کسی ہندو کا ہے یا مسلمان کا، ناممکن ہے۔ ان گھروں اور دوکانوں کی دیواریں بھی سانجھی ہیں اور چھت بھی ملے ہوئے ہیں۔

لیکن گذشتہ ہفتے کھجوری خاص میں بلوائیوں نے صرف مسلمان کے گھروں اور دوکانوں کو انتہائی آسانی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

مسلمانوں کے گھروں کے در و دیوار جلے ہوئے ہیں جبکہ ہندوؤں کے صاف ستھرے گھر بلکل اصلی حالت میں موجود ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی سبزی، پولٹری، موبائل فون کی دکانیں، منی چینجر اور ایک سوڈا فیکٹری جل کر راکھ ہو چکی ہیں جبکہ ہندوؤں کی دوکانوں کے شٹر ایک بار پھر کھل رہے ہیں۔


تصویر کے کاپی رائٹMANSI THAPLIYALImage captionکجھوری خاص کے علاقے میں بڑے پیمانے پر مال و جائیداد کا نقصان ہوا

کھجوری خاص کے علاقے میں دونوں طبقوں کے لیے فسادات کی باقیات ہی ایک مشترک چیز رہ گئی ہے۔ ان بیابان گلیوں میں جلی ہوئی گاڑیاں، ٹوٹے ہوئے شیشے، پھٹی ہوئی سکول کی کتابیں اور سڑی ہوئی روٹیاں بکھری پڑی ہیں۔ کچھ بکریاں ان تباہ حال گلیوں میں منمنا رہی ہیں۔

محمد مناظر کہتے ہیں کہ انھیں اس کا کوئی انداز نہیں ہے کہ بلوائی مقامی تھے یا باہر سے آئے تھے۔ انھوں نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ لیکن وہ ایک سوال کرتے ہیں،’ انھوں نے مقامی مدد کے بغیر ہمارے گھروں کی کیسے نشاندہی کر لی۔‘

دونوں طبقوں میں بداعتمادی کی فضا

محمد مناظر کے جلے ہوئے گھر کے سامنے ایک ہندو کا دو منزلہ گھر ہے جو پان کے پتوں کا کاروبار کرتا ہے اور یہاں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

محمد مناظر ایک عرصے سے ان پڑوسیوں کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں تو ان کے گھر میں کرایہ دار کے طور پر بھی رہا ہوں ۔ وہ باہر نکل کر بلوائیوں کے ساتھ بات کرسکتے تھے، شاید میرا گھر بچ جاتا۔‘

ایک صبح جب بلوائی اس علاقے میں آنا شروع ہوئے، تو محمد مناظر کو اچانک ڈر لگا۔ انھوں نے پولیس اور فائر سروس کو فون کیا۔ ایک مقامی ہندو سکول ٹیچر نے، جو ان مسلح افراد کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا، محمد مناظر سے کہا کہ کچھ نہیں ہو گا، اپنے گھر جاؤ‘۔

اس کے علاوہ ایک اور ہندو نوجوان ان بلوائیوں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن بلوائیوں نے اس کی ایک نہ سنی اور گلی میں گھس گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب محمد مناظر بھاگ کر واپس اپنے گھر آ گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔


تصویر کے کاپی رائٹAFP

بلوائیوں نے اس کے گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی اور پھر ان کی توجہ قریبی مسجد کی طرف ہو گئی جہاں انھوں نے پٹرول بم پھینکے۔

محمد مناظر کہتے ہیں کہ پولیس چھ گھنٹے بعد آئی اورعلاقے کے مسلمانوں کو محفوظ علاقوں میں لے گئی۔ بلوائی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور بعض نے تو پولیس کی موجودگی میں لوگوں کو تھپڑ مارے اور پتھر پھینکے ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت کے یہ نئے پناہ گزیں جوں ہی وہاں سے نکلے، ہجوم نے ان کے گھروں میں گھس کر گھروں کو لوٹا اور آگ لگائی۔

محمد مناظر کہتے ہیں ’مجھے ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ تم خوش قسمت ہو کہ تم زندہ ہو۔ ہم آپ کو وہاں لے جائیں گے جہاں تم جانا چاہتے ہو۔‘


تصویر کے کاپی رائٹMANSI THAPLIYALImage captionمشتاری خاتون نے تن تنہا 40 لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا

محمد مناظر نے پولیس سے کہا کہ وہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے میں اپنے ایک رشتہ دار کے پاس جانا چاہتے ہیں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ وہاں پہلے ہی مقامی خاندانوں کے 70 افراد تین چھوٹے سے کمروں میں پناہ لے چکے تھے۔

ان 70 افراد میں سے ایک ایسی خاتون بھی تھیں جنھوں نے اپنے چھ دن کے بچے کو اپنی کمر کے ساتھ باندھ کر تین چھتوں سے کود کر اپنی جان بچائی تھی۔

ان سب لوگوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ پولیس نے چند لوگوں کو وہاں پہنچنے میں مدد دی تھی۔ ایک مسلمان خاندان کی سربراہ خاتون نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے 40 افراد کو محفوظ مقام پر پہنچایا تھا۔

ایک نوجوان انجنیئر فیاض عالم جو دلی میں نوکری حاصل کرنے کی غرض سے آئے ہیں، حیران ہیں کہ پولیس بلائے جانے کے باوجود وہاں کیوں نہیں آئی۔ وہ سوال کرتے ہیں کیا انھوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا؟


تصویر کے کاپی رائٹMANSI THAPLIYALImage captionستر مسلمان پناہ گزین تین کمروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں

کھجوری خاص کے یہ پناہ گزین مشتاری خاتون کے شکر گزار ہیں جس نے کمال ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فساد والے علاقوں سے عورتوں اور بچوں کو بچا کر محفوظ مقام پر لے آئی ہیں۔

مشتاری خاتون چار، پانچ مرتبہ پیدل چل کر فسادات والے علاقوں میں گئیں جو ان کے گھر سے قریباً ایک کلو میٹر دور ہے۔ یہ بچے اور عورتیں ایک سے دوسری چھت پر جاتے رہے اور پھر محفوظ عمارت سے نیچے اتر کر اس پناہ گاہ تک پہنچے ہیں۔

اس ایک لاغر سی خاتون نے پولیس سے زیادہ لوگوں کی جانیں بچائیں۔

مشتاری خاتون کہتی ہیں: ’اب ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہو گی، دلی ہمیں نہیں بچائے گا۔‘ مشتاری خاتون کی آواز سرکشی تھی، پسپائی نہیں۔

This article originally appeared on BBC Urdu

Share this story

Leave a Reply