عرب امارت کے شاہی خاندان کی طرف سے ہندوؤں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے پر سخت الفاظ میں تنبیہ

Share this story

“آپ اسی سرزمین سے روٹی کماتے ہیں ، آپ کی طرف سے تضحیک کا نوٹس لیا جائے گا” عرب امارت کے شاہی خاندان کی طرف سے ہندوؤں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے پر سخت الفاظ میں تنبیہ 

دبئی میں مقیم ایک ہندوستانی ، جس نے ٹویٹر پر مسلم اور اسلام دشمن پوسٹیں شیئر کیں ، جمعرات کے روز متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کی ایک رکن شہزادی هند بنت فيصل القاسمي  نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور سخت الفاظ میں وارننگ دی، جس کی وجہ سے اس نے اپنا اکاؤنٹ بینڈ کردیا-

سورابھ اپادھیئے نامی ایک ٹویٹر صارف نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور اسلام کا مذاق اڑانے کے لئے متعدد ٹویٹس کیں، جس کی وجہ سے شہزادی هند بنت فيصل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا جس نے ٹویٹس کے پردے بانٹتے ہوئے کہا تھا کہ “تم اس سرزمین سے دانہ پانی کماتے ہو، تمہاری طرف سے نفرت کا اظہار بغیر نوٹس لیے ختم نہیں ہو گا”۔

اپادھیئے، جو غلط خبریں پھیلانے اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کی تاریخ رکھتا ہے، نئی دہلی میں تبلیغی جماعت کے مارچ کے اجتماع کے موقع پر ٹویٹر کو استمال کرتے ہوۓ نفرتیں پھیلاتا رہا ہے۔

صارفین کے مابین تویٹس کے تبادلے میں اپادھیئے نے مسلمانوں کے خلاف گالی گلوچ کا استعمال کرتے ہوۓ “بنیاد پرست اسلامی دہشت گرد” کے الفاظ استمال کیے۔ بعد میں اپادھیئے نے اپنی جنجھلاہٹ کا رخ اس طرف موڑا کہ کس طرح مشرق وسطی میں کچھ ہندوؤں کو مسلمانوں سے بدسلوکی کرنے اور سوشل میڈیا پر ان کی نسل کشی کا مطالبہ کرنے پر ملازمت سے برطرف کیا جارہا ہے۔ ان ملازمین کی مجرمانہ حرکتوں کا دفاع کرتے ہوئے اس   نے کہا کہ آج یہ خطہ ایسا اس لیے ہے کہ ہندوستانیوں نے دبئی جیسے شہر ابتدا سے بنائے۔

اس کے مذموم تبصرے اور غلط پروپیگنڈے کے نتیجے میں شہزادی قاسمی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا- انہوں  نے لکھا ہے ، “حکمران خاندان ہندوستانیوں کا  دوست ہے ، لیکن شاہی رکن ہونے کے ناطے آپ کی بدتمیزی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ تمام ملازمین کو کام پر معاوضہ دیا جاتا ہے ، کوئی بھی مفت میں نہیں آتا۔ تم اس سرزمین سے دانہ پانی کماتے ہو، تمہاری طرف سے نفرت کا اظہار بغیر نوٹس لیے ختم نہیں ہو گا”

انہوں نے مزید کہا، “جو کوئی بھی متحدہ عرب امارات میں کھلے طور پر نسل پرستانہ اور امتیازی سلوک برتے گا  اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اسے نکال دیا جائے گا”۔

نفرت کی تاریخ

شہزادی هند بنت فيصل القاسمي کے جواب کو ٹویٹر پر متعدد صارفین نے سراہا ہے۔ یہاں تک کہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر اپادھیئے کی طرف سے پھیلائی جانے والی اسلام سے نفرت کی پچھلی مثالوں کو بھی سامنے لایا گیا۔

اپادھیائے کی ایک پوسٹ میں ، انہوں نے کہا تھا کہ تمام اسلامی تنظیموں پر “چوکس نگاہ رکھنا چاہئے یا انھیں روکنا چاہئے” کیونکہ وہ صرف تشدد اور بدامنی پھیلاتے ہیں۔

 

نفرت پھیلانا

پچھلے کچھ ہفتوں سے ، مشرق وسطی میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں ، اور کچھ میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے مغلزات بکنے پر انہیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

دبئی ہیڈکوارٹر میں مربوط سہولیات کے انتظام (ایف ایم) ، ایمرل سروسز میں ٹیم لیڈر کے طور پر کام کرنے والے راکیش بی کٹرمتھ  کو جمعرات کے روز برطرف کردیا گیا- انہوں نے کورونا وائرس سے متعلق ایک فیس بک پوسٹ کے جواب میں مسلمانوں کی تضحیک کی، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر غم و غصّہ پھیل گیا-

اسے برطرفی کے بعد پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امارات میں چیف اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کام کرنے والے حیدرآباد کے ایک شخص کو اس کے آجروں نے مسلم مخالف پوسٹیں شیئر کرنے پر برطرف کردیا، جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ مسلمان جان بوجھ کر کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔

ایک اور شخص، جس کی شناخت بالاکرشنا کے نام سے ہے، مورو حب  (Moro Hub) میں کام کرتا تھا ، جو ایک ڈیٹا سولیوشن سروس سینٹر تھا۔ اس کی ڈھٹائی سے فرقہ وارانہ پوسٹس سے تنگ آ کے بہت سے لوگوں نے اس کا LinkedIn اور سوشل میڈیا پروفائل حاصل کیا اور ٹویٹر کے توسط سے اس کی ناجائز سرگرمی کو اس کے خلاف کاروائی کا اشارہ کرتے ہوئے اپنے آجر کو بڑے پیمانے پر اطلاع دی۔

ایک اور ہندوستانی جو کہ ابوظہبی میں ایک مینیجر ہے، سوشل میڈیا پر اسلام کو بدنام کرنے کی وجہ  سے قانونی کارروائی کا سامنا کرے گا۔

ابوظہبی میں قائم ایک فرم کے مالیاتی منیجر میتیش نے فیس بک پر گرافک تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے یہ دکھایا کہ کس طرح ایک “جہادی کورونا وائرس تھوکنے والا خودکش 2 ہزار اموات کا سبب بن سکتا ہے جب کہ  ایک جہادی حملہ آور بیلٹ پر لگے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ صرف 20 کی جان لے سکےگا-

ایک اور واقعے میں ، ایک ہندوستانی مسلمان ، جو نوکری کی تلاش میں متحدہ عرب امارات آیا، اس کے ہم وطن  ایس بھنڈاری، جو متحدہ عرب امارات میں ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کے مالک ہے، نے اسے کہا  کہ وہ پاکستان چلا جائے- نوکری کے متلاشی مسلمان کی شکایات پر  بھنڈاری کے خلاف پولیس شکایت درج کرائی گئی ہے۔

Share this story

Leave a Reply