امن معاہدے کے بعد امریکہ کا طالبان کے خلاف پہلا فضائی حملہ

Share this story

افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے مقصد کے لئے دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جانے کے چند دن بعد ہی ، امریکا نے صوبہ ہلمند میں حملہ کیا۔

امریکہ نے افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملہ کیا ہے جو امریکی افواج کے ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سینئر طالبان رہنما سے فون پر گفتگو کے ایک ہی دن بعد کیا گیا  ہے۔

کرنل سونی لیگیٹ نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ، “امریکہ نے ہلمند کے شہر نحر سراج میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف چار مارچ کو ایک فضائی حملہ کیا ، جو افغان قومی دفاع اور سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دفاعی حکمت عملی تھی۔

گیارہ دن میں طالبان کے خلاف پہلا حملہ ، اس دن کے بعد ہوا ہے جب امریکہ اور طالبان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد افغانستان میں 19 سالہ جنگ کو ختم کرنا تھا۔

لیگیٹ نے 29 فروری کو قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی قیادت نے عالمی برادری سے تشدد کو کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا ، تاہم ، امریکہ امن کے لئے پرعزم ہے لیکن انہوں نے طالبان سے “غیرضروری حملوں” کو روکنے اور ان کے وعدوں کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

لیجیٹ کے مطابق ، طالبان جنگجوؤں نے منگل کے روز ہلمند میں چوکیوں پر 43 حملے کیے تھے۔

صوبائی پولیس کے ترجمان محمد زمان ہمدرد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ “پچھلے دو دنوں سے  ہم ہلمند میں طالبان کے سب سے زیادہ شدید حملوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا ، “انہوں نے متعدد اضلاع اور بہت سے فوجی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔”

سرکاری عہدیداروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سے قبل  طالبان کی طرف سے  بدھ کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 20 افغان فوجی اور پولیس اہلکاروں ہلاک ہوۓ  تھے۔

صوبائی کونسل کے ایک رکن صفی اللہ امیری نے بتایا ، “طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ رات قندوز کے امام صاحب ضلع میں کم از کم تین فوجی چوکیوں پر حملہ کیا ، جس میں کم از کم 10 فوجی اور چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔”

منگل کی رات وسطی ارزگان میں بھی طالبان نے پولیس پر حملہ کیا۔

اس تشدد سے افغان امن عمل میں رکاوٹ کا اندیشہ ہے-

Share this story

Leave a Reply