‘طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے بہت قریب ہیں’

Share this story

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ اچھے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ آئندہ ایک، دو ہفتوں میں نکل سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا لے۔

 

 

صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو امریکہ کے ‘آئی ہارٹ ریڈیو’ کے میزبان خیرالدو ریویرا سے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کو وطن واپس لانے کے لیے طالبان کے ساتھ امن معاہد ے کے لیے کام کر رہا ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ طالبان کے ساتھ اچھے مذکرات ہو رہے ہیں۔ جو امن معاہدہ طے پانے کے لیے بہت اچھا موقع ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات “ہم آئندہ ایک، دو ہفتوں میں جان سکیں گے۔

 

طالبان کی جانب سے ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ طالبان بھی معاہدہ چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس موجود جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے افغان جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ لیکن وہ لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کے عوض ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

صدر ٹرمپ کے بقول افغانستان میں فوج رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں۔

اس سے قبل امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ طالبان کے ساتھ ‘سات دن کے لیے تشدد کی کارروائیوں میں کمی’ لانے کی تجویز پر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں افغان لڑائی کے سیاسی تصفیے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

 

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے یہ بات برسلز کے نیٹو ہیڈکوارٹرز میں جمعرات کو اخباری نمائندوں کو بتائی۔

 

مارک ایسپر نے کہا کہ اس وقت تشدد کی کارروائی میں سات روز کی کمی مناسب قدم ہے، جس سے یہ بات طے ہو گی کہ مذاکرات میں طالبان گروپ کس حد تک سنجیدہ ہے۔ اس سے امریکہ کی افغانستان میں طویل ترین لڑائی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

 

ایسپر نے یہ کہتے ہوئے مزید تفصیل بتانے سے گزیر کیا، کہ اس ضمن میں مزید پیش رفت کے حصول کے سلسلے میں وہ امریکہ کے اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ تشدد کی کارروائیوں میں مجوزہ کمی لانے کی پیش کش سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر (فائل فوٹو)

Share this story

Leave a Reply