کوروناوائرس کے سہولت کارکون؟

Share this story

آپ نے یہ کہاوت تو سن رکھی ہوگی کہ آ بیل مجھے مار۔ لیکن عین ممکن ہے کہ آپ نے اس کی عملی تصویر نہ دیکھی ہو۔ اگر میرے توسط سے آپ اس کی عملی تصویر دیکھ لیں تو پھر دل کرے تو میرا شکریہ ادا کریں۔ اس سے بھی کہیں زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ ایسے لوگوں کو سمجھا دیں جو بیل کے نوکیلے سینگوں اور اس کے حملے کے بعد ملنے والے گہرے زخموں اور خدانخواستہ موت سے ڈر نہیں رہے بلکہ لاپرواہی کی انتہا پر ہیں۔ میرا اشارہ کوروناوائرس کے پیش نظرعوامی رویّے کی طرف ہے۔

چین سے پھوٹنے والا وائرس اس وقت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور ہلاکتیں بھی ہر آنے والے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ اتنی خوفناک صورت حال کے باوجود ہم پاکستانی ہیں کہ کورونا کوایک لطیفہ سمجھ رہے ہیں۔ آئے روز ٹک ٹاک، فیس بک اور ہر پلیٹ فارم پر کورونا کے نام سے لطیفے اور اسے سنجیدہ لینے کے بجائے مذاق کرنے کا نہ صرف ایک نیا ٹول سمجھ رہے ہیں بلکہ بطور ٹول استعمال بھی کررہے ہیں۔ مجھے روزانہ صبح اٹھتے ہی کتنے ایسے لطیفے فارورڈ کیے گئے ملتے ہیں جن کا موضوع کورونا وائرس ہوتا ہے۔

ہمیں جگہ جگہ لکھا نظر آرہا ہے اور میڈیا پر بھی آگاہی دی جارہی ہے کہ ہاتھ بار باردھوئیں، سینیاٹائزر کا استعمال کریں، آپس میں میل جول کم کریں، ملاقات کی صورت میں ایک فاصلہ رکھیں اور بغل گیر ہونے اور ہاتھ ملانے کے بجائے منہ سے ہی السلام وعلیکم کہیں یا حال چال پوچھ لیں۔ مگر یہاں کون سنجیدہ ہے؟ اتوار کے روز گاڑی پارک کرکے باہر نکلا ہی تھا اور دل میں یہی خیال آیاکہ ماسک تو پہن لیا، اب ایک بار پھر اپنی سیٹ پر جانے سے پہلے ہاتھ دھولوں اورسینیاٹائزر استعمال کرلوں۔ مگر نجانے مجھے ملنے کو اتنے سال سے جیسے بے قرار ہو، ایک شخص دورسے میری طرف لپکا، زبردستی بغل گیرہوا، ہاتھ ملایا اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر ’’ہور فیرکی حال اے تہاڈا، کورونا بہت تیز ہورہیا اے!‘‘ وہ بھائی صاحب بے احتیاطی بھی کیے جارہے ہیں اور کورونا سے بچنے کی احتیاطیں بھی کسی طبی ماہر کی طرح بتائے جارہے ہیں۔

یہ جو چلتے پھرتے کورونا کے سہولت کار ہیں، ان ہی کی وجہ سے یہ مرض دن بدن بڑھتا جارہاہے۔ کہا جارہا ہے کہ اٹلی میں شاید اتنی گمبھیر صورت حال نہ ہوتی اگر وہ اسے بروقت سنجیدہ لے لیتے۔ مگر ہم پاکستانی تو شاید کسی فولاد کے بنے ہوئے ہیں اور ہمیں شاید پختہ یقین ہے کہ کورونا کی کیا مجال جو ہمیں چھو بھی سکے۔ کورونا نے حملہ کر بھی دیا تو ہمارے بدن میں کمانڈر سیف گارڈ سے بڑھ کر خوبیاں ہیں۔ کورونا اپنی نسلوں کو بھی یہ سبق دے جائے گا کہ پاکستانیوں کی طرف رخ مت کرنا، یہ مارتے کم اور رلاتے زیادہ ہیں۔ حد ہے ہماری لاپرواہی کی!

اگر بے احتیاطی کی یہی صورتحال رہی تو میرا یہی مشورہ ہے کہ حکومت ایکشن میں آئے۔ ویسے بھی ہم بہت سے کاموں کے ذمہ دار خود ہی ہوتے ہیں جنہیں حکومت وقت پرڈال دیتے ہیں۔ ہاں، جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے وہ پوری کرے مگر جہاں عوام کو ہوش کے ناخن لینے ہیں، وہاں کیوں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں؟ کیوں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے پرسکون بیٹھے ہیں کہ بلی اسے دیکھ نہیں رہی۔ یہ نہیں پتا کہ بلی کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ حملے کو تیار ہے، صرف تمہاری ہی آنکھیں بند ہیں۔ یہ خوش فہمی جیسے کبوتر کو بلی کا لقمہ بنادیتی ہے، ایسے ہی اگر ہم زیادہ دیر آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے تو شاید ہمارا حال بھی یہی ہو۔

ایک غیر ذمہ داری یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ فیس بک پر ہربندہ حکیم لقمان کا شاگرد خاص بنا بیٹھا ہے۔ ہر بندے کے پاس کورونا کاعلاج ہے اور ہر بندہ جراثیم کش محلول بنانے کا ماہر ہے۔ ایسی ایسی بے تکی باتیں شیئرکی جارہی ہیں کہ انسان سر کے ساتھ پیر بھی پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ فیس بکی طبیبوں کے مطابق، کورونا کے اتنے علاج ہیں کہ انہیں یہاں لکھنا شروع کردوں توشاید میرابلاگ ہی ایک کتاب کی صورت اختیار کرجائے۔

بھائی! خدارا جن کا کام ہے انہیں کرنے دیجیے۔ بغیر پڑھے ڈاکٹر بننے کی کوشش نہ کیجیے۔ ساری دنیا ویکسین بنانے کےلیے سر توڑ کوششیں کررہی ہے اور پاکستانیوں کے پاس تو جیسے پہلے ہی علاج تیار تھا اور وائرس آتے ہی سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کردیا۔ دماغ میں اچھی طرح یہ بات بٹھا لیجیے کہ یہ وائرس ہے، کوئی مذاق نہیں۔

محکمہ صحت کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر اپنائیے، وائرس کا خطرہ کم کرنے میں مددگار نہیں بن سکتے تو کم ازکم سہولت کار ہر گز نہ بنیے۔

نوٹ: پاک جرگہ اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Source link

Share this story

Leave a Reply