آسام، مسلمان مخالف متنازعہ قانون شہریت کیخلاف 18 تنظیموں کی احتجاجی تحریک کا آغاز

Share this story

 بھارت کے صوبے آسام میں اٹھارہ تنظیموں نے مسلمان مخالف متنازعہ قانون شہریت ترمیمی ایکٹ کےخلاف نئی احتجاجی تحریک شروع کی ہے یہ تنظیمیں اس قانون کو واپس لینے اور زیر حراست رہنماوں کی رہائی کا مطالبہ کررہی ہیں۔

 طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں سمیت مختلف تنظیموں کی جانب سے پورے صوبے میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

 احتجاج Sivasagar میں اسی جگہ سے شروع کیاگیا جہاں سے گزشتہ برس کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔

سنیچر کو اگرچہ آسام کے مظاہروں میں نرمی دیکھی جا رہی ہے لیکن اس سے ملحق ریاست مغربی بنگال میں جمعے کو شروع ہونے والے مظاہروں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بظاہر یہ مظاہرے پر امن تھے لیکن ہاورہ اور مرشد آباد میں مظاہرے پُرتشدد ہو گئے۔

دوسری جانب سنیچر کو مختلف تنظیموں نے دارالحکومت دہلی میں تین بجے سے اس بل کے خلاف مظاہرے کی کال دی ہوئی تھی۔

برطانیہ، امریکہ، اسرائیل اور کینیڈا کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو انڈیا کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی تنبیہ کی ہے اور سفر کرنے والوں کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

Share this story