افغانستان: طالبان نے ضلع شہرک کے مرکز پر قبضہ کر لیا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 150 سپاہی ہلاک و زخمی

Share this story

افغانستان میں طالبان نے مغربی صوبے غور کے ضلعے شہراک کے مرکز پر قبضہ کر لیا ہے۔

غور کے گورنر عبدالظاہر فیض زادہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ سیکورٹی فورسز نے طالبان سے جھڑپوں میں شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ضلعی مرکز میں تمام سرکاری دفاتر کو خالی کروا لیا ہے اور شدید لڑائی کے بعد فوج کو قریبی گاؤں میں دھکیل دیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں 150 سپاہی ہلاک و زخمی ہوگئے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق افغان حکومت کے سینئر عہدیداروں کے مطابق ملک کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہلاکتوں میں پریشان کن اضافہ ہوچکا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے 11 ستمبر تک مکمل فوجی انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی علاقوں کے حصول کے لیے لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق بلخ کے ضلع خاص بلخ کے مرکزی علاقے میں زور دار کار بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجےمیں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 50 سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔

افغان وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز نے صوبہ وردک کا اسٹریٹجک علاقہ ضلع نیرک کا قبضہ واپس لینے کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے اور یہ علاقہ دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے سے کم فاصلے پر موجود ہے۔

پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان جنگجووں نے اسی روز شمالی صوبہ فریاب میں ضلع قیصر میں حملہ کیا اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی 157 ہلاکتیں ہوئی ہیں’۔

شہریوں کونشانہ بنانے کے حوالے سے بھی دونوں فریقین ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

Share this story