افغان فوج کی چمن بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی

Share this story

چمن بارڈر پر اسمگلنگ میں ملوث عناصر نے لوگوں کو اکسایا،شبلی فراز

ویب ڈیسک- وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ  چمن بارڈر پر اسمگلنگ میں ملوث عناصر نے لوگوں کو اکسایا،اس طرح افغانستان سے فائرنگ کےبعد حالات کشیدہ ہوئے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ عوام کی سہولیات کے لیے طورخم اور انگورہ اڈہ بارڈر کھولے گئے ،چمن بارڈر پرسرحد پارسے ہماری پوسٹوں پر فائرنگ کی گئی،جس سے ہماری چیک پوسٹوں کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہاکہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا،پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ملک ہیں، ہم نے ہمیشہ افغانستان کو سپورٹ کیا ہے،سرحدی نظام مربوط بنانے کےلیے اقدامات کررہے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کا ردعمل

پاک افغان سرحد چمن بارڈر پر فائرنگ کے واقعے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے اپنے دفاع اور مقامی آبادی کے تحفظ کیلئے جوابی فائرنگ کی۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 3 جولائی بروز جمعرات کو چمن کے باب دوستی پر پیش آیا، افغان فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پاک فوج نے اپنے دفاع اور مقامی آباد کے تحفظ کیلئے جوابی فائرنگ کی۔ پاک فوج نے فائرنگ میں پہل نہیں کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے عسکری اور سفارتی چینلز پر کوششیں کیں،۔ افغان اتھارٹیز کی درخواست پر افغانستان سے ملحقہ سرحد تجارت اور پیدل چلنے والوں کے لیے کھولی گئی۔

عائشہ فاروق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ تجارت کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے، کچھ عناصر مخالفت کر رہے ہیں، عید الاضحی کے لیے بھی پیدل چلنے والوں کو اجازت دی گئی، اس مقصد کے لیے اکٹھے ہونے والے افراد پر افغان فوج نے بلا جواز فائرنگ کی اس بدقسمت واقعہ سے شہادتیں ہوئیں اور پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھی بدقسمتی سے نقصان پہنچا اگر افغان فوج فائرنگ نہ کرتی تو اس واقعہ سے بچا جاسکتا تھا، پاکستان خطے کے استحکام اور امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، ہم امید کرتے ہیں ہماری تعمیری کاوشوں کا ویسا ہی جواب ملے گا۔

Share this story

Leave a Reply