الیکٹورل کالج کی جوبائیڈن کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کی توثیق

Share this story

واشنگٹن: امریکی الیکٹورل کالج نے بالآخر جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دے دیا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل شکست تسلیم کرنے سے انکار کے باعث 40 دن تک جاری رہنے والے تناؤ کا خاتمہ ہوگیا۔

ڈیموکریٹک امیدوارجوبائیڈن نے نومبرمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں تین سوچھ الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ان کے مدمقابل ریپبلکن امیدوار ڈونلڈٹرمپ نے دوسوبتیس ووٹ حاصل کئے تھے۔

الیکٹورل کالج کی ووٹنگ کاعمل ریاستی دارالحکومتوں اورواشنگٹن ڈی سی میں انجام پایا۔

20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا حارث کے عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔

جو بائیڈن جنہیں انتخاب کے روز رات کو اپنی قوم کو فاتح کی حیثیت سے خطاب کرنا تھا، نے الیکٹورل کالج میں اپنی فتح کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی تقریر کی اور اپنے حریف پر زور دیا کہ وہ ‘جمہوریت پر بے مثال حملے’ کو ختم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا میں سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بالکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتی ہے، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، نہ ہی وبا اور نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو بجھا سکتا ہے’۔

مسٹر ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل بل بار کو برطرف کر رہے ہیں جنہوں نے 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ان کے دعووں کی توثیق نہیں کی تھی۔

صدر نے اپنے آفیشل ٹویٹر پیج پر بل بار کے استعفے کی ایک کاپی پوسٹ کی اور لکھا کہ ‘خط کے مطابق کرسمس سے قبل بل بار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپٹی اٹارنی جنرل جیف روزن، ایک ممتاز شخصیت، قائم مقام اٹارنی جنرل بن جائیں گے اور انتہائی قابل احترام رچرڈ ڈونوگو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے’۔

ڈونلڈ ٹرمپ جو عام طور پر سیاسی پیشرفتوں پر رد عمل دینے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرتے تھے، نے الیکٹورل کالج کے فیصلے پر کوئی رائے پیش نہیں کی۔

جو بائیڈن نے اپنی قوم کو یہ یقین دلاتے ہوئے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ وہ ‘تمام امریکیوں کے لیے صدر’ ہوں گے اور انہوں نے ‘گرما گرمی کم کرنے’ اور ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے الیکٹورل کالج کے نتائج ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی فتح کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا ‘ان کے اپنے معیار کے مطابق ان نمبروں نے اس وقت ایک واضح فتح کی نمائندگی کی تھی اور میں احترام کے ساتھ تجویز کرتا ہوں کہ اب وہ ایسا کریں’۔

Share this story