امریکہ کا ساتھ دینے پر بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، عمران خان

Share this story

وزیراعظم عمران خان نے امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے دہشتگردی کی مد میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس دوران بینظیر بھٹو بھی ایک حملے میں ہلاک ہوئیں اور پاکستان کو 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پاکستان کو لاحق خدشات کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خدشہ پناہ گزین ہیں جو پہلے ہی 30 لاکھ کی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔

افغانستان سے امریکی و دیگر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اور گذشتہ ماہ طالبان کی جانب سے  افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وزیراعظم پاکستان کا کسی بھی بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے ساتھ یہ پہلا انٹرویو تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود داعش کے دہشتگرد جو وہاں کی سرزمین یہاں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، بلوچ درانداز، اور اس کے علاوہ پاکستان طالبان، سب سے حملوں کا خطرہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ان دونوں حوالے سے خدشات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس تمام دور میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب تھے۔ امریکہ کہتا تھا کہ اس نے ہماری مدد کی ہے اور انھوں نے ہمیں 9 ارب ڈالر کی غیر فوجی اور 11 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی۔ ’ہم ایک طرح کی ہائرڈ گن تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اس طرح کے تعلقات ہوں جیسے اس کے انڈیا کے ساتھ ہیں، ایک کثیر الجہتی تعلق۔ انھوں نے کہا کہ ایسا تعلق نہیں ہونا چاہیے جس میں وہ ہمیں ان کے لیے لڑائی کرنے کے پیسے دیں ’ہم نارمل تعلق چاہتے ہیں۔‘

More on this story from BBC Urdu

Share this story