ایران نے جوہری معاہدے کی تجدید کیلئے نو منتخب امریکی صدر کی شرائط مسترد کر دیں

Share this story

ایران نے جوہری معاہدے کی تجدید کے لئے امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی جانب سے پیش کی گئی شرائط مسترد کر دی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بحیرۂ روم میں مشترکہ مفادات کے حوالے سے متعدد ممالک پر مشتمل فورم “بحیرۂ روم ڈائیلاگ” کی میڈ 2020ء میٹنگ (Mediterranean Dialogue meeting-MED 2020) سے خطاب کیا ہے۔

رومامیڈ 2020 ء کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف تمام پابندیاں اٹھا کر یہ ثابت کرے کہ یہ معاہدہ جائز ہے تو ایران اس کی مکمل پاسداری کرے گا۔

محمد جواد ظریف نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا مغرب خطے میں جاری اپنے شرپسندانہ اقدامات کو ترک کرنے پر تیار ہے؟  انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کس قانون کی بناء پر ایران کے خلاف دہشتگردانہ اقدامات انجام دیتا ہے اور خصوصاً ایران کی سرزمین پر ایرانی سائنسدان کی ٹاگٹ کلنگ کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ اس مذموم اقدام پر اسے کسی عالمی ردعمل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا، بالخصوص مغربی دنیا کی جانب سے بھی اس کے وحشیانہ اقدام کی مذمت تک نہیں کی جاتی۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یورپ پہلے خطے میں جاری اپنے شرپسندانہ اقدامات کو ترک کرے اور پھر مذاکرات کی بات کرے، تاہم جب تک وہ شرارت پر مبنی اپنے اقدامات ترک نہیں کرتا؛ اپنا منہ بند رکھے!!

محمد جواد ظریف نے ممتاز ایرانی سائنسدان کی ٹارگٹ کلنگ پر مبنی اسرائیل کے غیر انسانی اقدام پر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی مکمل خاموشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے انتہائی محترم جوہری سائنسدان کی ٹارگٹ کلنگ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بلکہ انتہائی گھناؤنا و غیر انسانی اقدام تھا، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جبکہ ہمیں توقع ہے کہ 3 یورپی ممالک؛ فرانس، جرمنی اور برطانیہ بھی اس وحشیانہ اقدام کی کھل کر مذمت کریں۔

انہوں نے جوہری حوالے سے یورپی ممالک کی ذمہ داریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور یورپی ممالک جوہری معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کریں تو نہ صرف جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے تصویب کئے جانے والے نئے قانون پر عملدرآمد روک دیا جائے گا بلکہ جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 کے مطابق ایران کی جانب سے اٹھائے گئے جوابی اقدامات بھی واپس پلٹا دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کے تمام مقامات کے ساتھ ایران کے اقتصادی روابط بحال ہونے دیئے جائیں اور مزید کوئی ظالمانہ مطالبہ نہ کیا جائے تو اس صورت میں ایران بھی جوہری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔

Share this story