بنگلہ دیش کے مداہین کے لیے

Share this story

بنگلہ دیش کے مداہین کے لیے

اوریا مقبول جان 

 

“اگر بھارت ان لوگوں کو شہریت دینا شروع کر دے تو آدھا بنگلہ دیش خالی ہو جائے”۔ یہ ایک زناٹے دار معاشی تھپڑہے، جو ایسے ملک کے وزیرمملکت برائے داخلہ”جی کشن ریڈی” کی طرف سے، جو خود غربت کے حساب سے دنیا میں انچاسویں (49) نمبر پر ہے۔ وہ بھارت اس بنگلہ دیش کو طعنہ دے رہا ہے، جہاں خود 36 کروڑافراد آج بھی بمشکل ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ امیر اور غریب میں یہی تفاوت ہے کہ ورلڈ بینک آج بھی بھارت کو غربت کے حساب سے ایک ایسے گروپ (Bracket)میں رکھے ہوئے ہے، جن میں نکارا گوا، ہنڈراس، کینیا اورجزیرہ کراباتی جیسے ممالک شامل ہیں، جنگ زدہ لیبیا اور پابندی زدہ کیوبا میں بھی ایک غریب ترین آدمی بھارت سے زیادہ کماتا ہے۔ بنگلہ دیش معیشت دانوں کے بتائے ہوئے ترقی کے مصنوعی اشاریوں کے باوجود، آج بھی وہ ایسا بدقسمت ملک ہے جس کے شہری کسی ترقی یافتہ نہیں، بلکہ بھارت جیسے غریب ملک میں جا کرمحنت مزدوری کرنے کے لئے مرے جا تے ہیں۔

بھارت نے ان غربت کے مارے بنگلہ دیشیوں کو روکنے کے لئے سرحد پر باڑ لگا رکھی ہے۔ جیسے ہی موقع پا کر کوئی بنگلہ دیشی اسے عبور کرتاہے تو نظر آنے پربھارتی بارڈر سیکورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ لیکن جو “خوش قسمت” بنگلہ دیشی، بھارت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے میں کامیاب ہو ئے، ان کی تعداد بھی حیران کن ہے۔ آج سے سولہ سال قبل 2004ء میں بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ سری پرکاش جسوال نے بھارتی پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس وقت بھارت میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔ بارہ سال بعد 2016ء میں بھارت کے وزیرمملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے بھارتی پارلیمنٹ کو بتایا کہ اِس وقت بھارت میں بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد دو کروڑ ہے۔

یہ تعداد بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کی کل تعداد سے دوگنی ہے۔ یہ بیچارے بنگلہ دیشی سارے کے سارے ایک غریب ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن ہیں، جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت ترقی یافتہ ممالک میں ہے اور ان میں سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد تو ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یعنی پاکستانی غیر قانونی تارکینِ وطن کے مقابلے میں صرف بھارت میں بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکین کی تعداددو سو گنا زیادہ ہے۔ لیکن میرے ملک کا “بد نصیب” دانشوربنگلہ دیش کو پاکستان کے مقابلے میں ترقی کا “رول ماڈل” بتاتا ہے۔ یہ وہ احساسِ کمتری کا شکار”بد نصیب” ہے۔ جسے اپنے وطن پر فخر کرنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ جب یہی بنگلہ دیش پچیس سال تک مشرقی پاکستان کی حیثیت سے ہمارے ساتھ تھا، تو کیا کسی ایک بھی بنگلہ دیشی نے غربت کے ہاتھوں تنگ آکر بھارت ہجرت کی۔ ایک تو ایسا ممکن نہ تھا اور دوسرا یہ بات کہ وہ خوشحال تھے۔ البتہ بھارت جانے والوں میں تقریباً دو ہزار غدارضرور تھے، جو شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ 1962ء سے بھارت آتے جاتے رہتے تھے، اورپاکستان کے خلاف بھارت سے مل کر علیحدگی کی سازش بنانے میں سرگرم تھے۔

اس غداری کے دس سالوں کا اعتراف توخود شیخ مجیب الرحمٰن نے کیا اور پھر اندرا گاندھی نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی اور آخری ثبوت، نریندر مودی نے ڈھاکے میں کھڑے ہو کر دیا کہ کیسے ہم نے برسوں ان مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کو پالا، پوسا اور پاکستان کے خلاف لڑوایا اور پھرآخرکاربھارتی فوج سے حملہ کرا کے انہیں “آزادی” دلوائی۔ حیرت کی بات ہے کہ بھارت میں تربیت یافتہ ” مکتی باہنی” کو میرے ملک کا دانشور، عوامی امنگوں کی ترجمان ویسی “انقلابی سپاہ” سے تعبیر کرتا ہے، جیسے روس، چین اور ایران کے انقلابات میں تخلیق ہوئی تھی۔ شرم آنی چاہیے اس موازنے پر بھی کہ “تحریک پاکستان “کے شہدا اس لئے شہید ہوئے کیونکہ پنجاب کی تقسیم کا فیصلہ انگریز نے پہلے کر لیا تھا اور مسلمانوں نے توصرف فساد میں اپنی جانیں قربان کی تھیں، جبکہ بنگلہ دیش تو ” حریت پسندوں ” کی تحریک تھی۔ پاکستان کیلئے جان دینے والے مسلمانوں کے خون کی اس سے زیادہ توہین نہیں ہو سکتی کہ جو اپنے آبا و اجداد کی قبریں اور مستقل ٹھکانے چھوڑ کر یہاں آئے۔

اُن کی نسلوں کو آج بھی اپنے ان بزرگوں کی قربانیوں پر فخر ہے۔ وہ ہر گز اپنے آبا و اجداد کے نام اور “کارناموں ” کے ذکر سے شرمندہ نہیں ہوتے، بلکہ اپنے والدین کی شہادت پر فخر کرتے ہیں، اسے چھپاتے نہیں۔ جس خطے نے ہمیشہ انگریز کو مرنے کیلئے سپاہی دیئے، وہاں سے تعلق رکھنے والا دانشور کیسے اس تاریخ کو یاد کرے جو مسلمانوں نے اپنے خون سے تحریر کی ہے۔ کاش انہیں تاریخ کا معمولی سا بھی علم ہوتا تو وہ ان اکسٹھ (61)ہزار مسلمانوں کو ضرور یاد کرتے جو 1857ء سے لے کر 1947ء تک انگریز سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ان میں پچاس ہزار مسجدوں کے امام تھے، جنہیں کلکتہ سے لے کر دلّی تک ہر شہر کے چوراہے پر پھانسیوں پر لٹکایا گیا تھا۔ کبھی محنت کر کے لاہور کے آرکائیو میں تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کر لیں کہ جن کے مطالعے کے بعد مشہور تاریخ دان “ولیم ڈالریمپل” بھی اپنی کتاب “The Last Mughal” میں پکار اٹھا کہ 1857ء کی جنگ آزادی توصرف اور صرف مسلمانوں نے لڑی تھی۔

دہلی میں انڈیا گیٹ پر پچانوے ہزار شہدا کے نام درج ہیں، ان میں 61,000 مسلمانوں کے نام ہیں۔ یہ ہیں وہ شہدا، جن کی نسلیں آج بھی اپنے بزرگوں کی عظمتوں پر فخر کرتی ہیں۔ یہ فخر انگریز فوج میں بھرتی والے خطے کے “سپوتوں ” میں کیسے آئے، جہاں سے قافلے انگریز کی مدد کیلئے 1857ء میں روانہ ہوئے تھے اور جس علاقے کے ہر دوسرے گاؤں میں تاج برطانیہ کے لیئے مرنے والوں کے میڈل اور تمغوں سے لے کر” ملکہ وکٹوریہ کراس “تک موجود ہیں۔

بنگلہ دیش کی اعدادو شمار والی ترقی دکھا کر مسرت سے جھومنے کا سوائے اس کے اور کوئی مقصد نہیں ہوتا کہ پاکستان کو نیچا دکھایا جائے۔ یہ افسانہ ساز” نومولود” معیشت دان ویسا ہی تجزیہ کرتے ہیں، جیسا کارپوریٹ کلچر کے ٹوڈی اکانومسٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے ترقی کے” شاندار” پیمانے بنا رکھے ہیں، جیسے فلاں کالم نگار یا اینکر پرسن کی تنخواہ بیس لاکھ ہے اور اس کا ڈرائیور، خانساماں، مالی اور چوکیدار فی کس بیس ہزارروپے لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس گھر کے پانچ ملازم، کل اکیس لاکھ روپے کماتے ہیں۔ یعنی اس گھر کی فی کس آمدنی چار لاکھ بیس ہزار ماہانہ ہے( تالیاں، واہ، واہ، کالم، گفتگو، طعنے)۔

یہ افسانہ ساز نومولود معاشی پنڈت نما تجزیہ نگار، ان معیشت دانوں سے بالکل مختلف نہیں ہیں جو ایسے گمراہ کن اعداد و شمار سے پہلے اپنی حکومتوں اور پھر دنیا بھر کودھوکہ دیتے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر بنگلہ دیش اس قدر خوشحال ہے تو وہاں سے دوکروڑ لوگ ہجرت کر کے بھارت میں کیوں موجود ہیں۔ یہ لوگ آج بھی خلیج بنگال میں کاکسس بازار سے سمندری سفر اختیار کرتے ہیں۔ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ چھوٹی سی کشتی پر گذارتے ہیں، جن میں سے اکثر خوارک اور پانی کی کمی سے مر جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے “ہائی کمیشن آف ریفیوجیز” کے مطابق صرف2014ء میں 750 بنگلہ دیشی سمندر میں مر گئے۔

اس اذیت ناک “ہجرت” کے دوران، گذشتہ آٹھ سالوں میں ڈھائی لاکھ بنگلہ دیشی سمندر میں اغوا کاروں کے ہاتھ چڑھے، جنہوں نے انہیں سستے داموں فروخت کر دیا یا تاوان لے کر چھوڑ دیا۔ کیا ایسا کوئی ایک سانحہ، ایک واقعہ یا ایک المیہ” مرحوم مشرقی پاکستان” میں کبھی پیش آیا تھا۔ کوئی بات نہیں کرے گا۔ یہ دو کروڑ بنگلہ دیشی، جو ایک پورے ملک کی تعداد بنتے ہیں، میرے “عظیم” کالم نگاروں کے” خوشحال ملک” سے کیوں بھاگتے ہیں؟ (اس کا جواب آئندہ)

Share this story

Leave a Reply