بھارت: سپریم کورٹ کا حکومت کو متنازع زرعی قوانین کا نفاذ روکنے کا مشورہ

Share this story

بھارت میں تین متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج تئیسویں دن بھی جاری رہا۔

نئی دہلی — بھارت کی سپریم کورٹ نے متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے دوران سڑکیں خالی کرانے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مذکورہ قوانین کا نفاذ روک دے۔

عدالت کے مطابق ایسا کرنے سے کسانوں سے مذاکرات میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ اگر قوانین کا نفاذ روک دیا گیا تو کسان مذاکرات کے لیے آگے نہیں آئیں گے۔

عدالت نے سماعت کے دوران کسی بھی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حق کو محدود کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ البتہ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ احتجاج سے دوسروں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ کسی سڑک کو بند نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ بھارت میں تین متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج 23 روز سے جاری ہے۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ نے حکومت سے کہا کہ وہ متنازع قوانین کے عدم نفاذ پر غور کرے اور کسان تنظیموں کو نوٹس جاری کرے۔ جواب میں حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ کسانوں کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ بھی بھارتی ہیں اور کسانوں کی دشواریوں سے واقف ہیں اور ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔

سماعت کے دوران کسان تنظیمیں عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ اس لیے سماعت مؤخر کر دی گئی۔

عدالت نے بدھ کو سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوں کہ بات چیت سے کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، اس لیے وہ حکومت اور کسان تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ جمعرات کی سماعت میں بھی اسی بات کا اعادہ کیا گیا۔

ادھر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گجرات میں عوام سے خطاب کے دوران مذکورہ قوانین کی پھر حمایت کی اور انہیں کسانوں کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں کسانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کسانوں سے کہا کہ حکومت ان کی ہر قسم کی شکایات دور کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

اس تمام صورتِ حال پر بھارت کے ایک سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر ابھے کمار مشرا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس معاملے کو لے جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے۔

ان کے مطابق جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے تحریکوں کو نظم و نسق کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول حکومت میڈیا کی مدد سے کسان تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ابھے کمار مشرا نے مزید کہا کہ ایسا شہریت سے متعلق قانون (سی سی اے) کی مخالف تحریک کے دوران بھی دیکھا گیا تھا۔

ان کے بقول جس طرح حکومت نے اس تحریک کو ختم کرا دیا، اسی طرح وہ سمجھتی ہے کہ اس بار بھی وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس بار ایسی کسی بھی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

بعض کسان تنظیموں کے نمائندوں کی جانب سے وزیرِ اعظم سے ملاقات اور متنازع زرعی قوانین کی حمایت کے سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کی متبادل تنظیمیں کھڑی کر کے کسان تحریک کو توڑنا چاہتی ہے۔

ابھے کمار نے کہا کہ ایک طرف حقیقی کسان ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور دوسری طرف چند کسان ہیں جو حکومت سے مل رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ لوگ دراصل حکومت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا وہ حقیقی کسان ہیں کہ نہیں۔

احتجاج کرنے والی کسان تنظیموں کے رہنماؤں کا بھی کہنا ہے کہ حکومت سے ملنے اور متنازع قوانین کی حمایت کرنے والے کسان ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگ ہیں۔

This article originally appeared on VOA Urdu

Share this story