بھارت میں کورونا کا طوفان, گزشتہ24 گھنٹےکےدوران 314835افرادمیں کوروناوائرس کی تشخیص

Share this story

بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران تین لاکھ چودہ ہزار آٹھ سو پینتیس افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جو دنیا میں کہیں بھی ایک دن میں ریکارڈ کی گئی عالمی مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

دارالحکومت دہلی سمیت نصف درجن سے زائد ریاستوں میں عوام میں زبردست خوف و دہشت ہے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کون کب کرونا کی گرفت میں آ جائے۔

بھارت کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے ایک کروڑ پچاس لاکھ ترانوے ہزار مریض موجود ہیں جبکہ دو ہزار ایک سو چار کے اضافے سے اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد ایک لاکھ چوراسی ہزار چھ سو ستاون ہو گئی ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی سمیت شمالی و مغربی بھارت کے ہسپتالوں نے نوٹس جاری کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس کورونا کے مریضوں کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری آکسیجن صرف چند گھنٹے کے لئے دستیاب ہے۔

اسپتالوں میں بحرانی کیفیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو روز قبل مرکزی وزیر اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کو اپنے بھائی کے لیے ایک بیڈ حاصل کرنے کی غرض سے ٹوئٹر پر اپیل کرنا پڑی۔

متعدد ڈاکٹروں اور صحت کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پیغامات پوسٹ کیے جا رہے ہیں اور موجودہ صورت حال پر اظہار تشویش کے ساتھ ساتھ اپنی بے بسی بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

رات کو بھی شمشان گھاٹوں میں رش

ہندو مذہب کے مطابق رات میں آخری رسوم کی ادائیگی ممنوع ہے لیکن دہلی کے سب سے بڑے مرگھٹ نگم بودھ گھاٹ پر 24 گھنٹے چتائیں جلائی جا رہی ہیں۔ وہاں کے ایک ذمے دار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا سے اموات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

اس کے مطابق اسپتالوں میں مردے رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ کرونا سے مرنے والے کو گھروں میں بھی زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا اس لیے لوگ جلد از جلد آخری رسوم ادا کر دینا چاہیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب کی روایات کے برعکس رات میں بھی آخری رسوم اد کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود کئی کئی گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھوپال اور دیگر کئی شہروں میں چتاؤں کے مسلسل جلنے کی وجہ سے وہاں کی چمنیاں پگھل گئی ہیں۔

Share this story