خطبہ حج: دنیا پر مشکلات اللہ طرف سے امتحان ہے، مسلمان ہر طرح کی خرافات سے دور رہیں

Share this story

 عازمین حج، حج کا،رکن اعظم وقوف عرفات ادا کرنے کے لئے میدان عرفات میں ہیں۔ انہوں نے وہاں مسجد نمرہ سے خطبہ حج سنا اور ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں۔

شیخ عبداللہ بن سلمان المانی نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ دین کی تعلیمات پر عمل کریں اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلب گار رہیں۔

انہوں نے تمام مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ بھائی چارے کے ساتھ متحد رہیں اور والدین، بچوں، عزیز و اقارب اور تمام جانداروں کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں۔

شیخ عبداللہ نے کہا کہ مسلمانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور ہم سب اللہ رب العزت کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلامۖ کی حیات طیبہ ہمارے لئے بہترین مشعل راہ ہے جنہوں نے انسانیت کو صحیح راہ دکھائی اور جس پر ہمیں عمل کرنا چاہئے۔

انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

شیخ عبداللہ نے کہا کہ حضور اکرمۖ نے ہمیں وبا سے متاثرہ علاقوں میں جانے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا کرتا ہے۔

خطبہ حج میں مزید کہا گیا ہےکہ اسلام نے معاشرے میں باہمی احترام اور اچھے اخلاق کا درس دیا ہے، اسلام رشتے دار، عزیز واقارب کاخیال رکھنے کابھی درس دیتا ہے، اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہی تقوی ہے، قرآن مجید میں ہے کہ حضوراکرمﷺ ہی آخری نبی ہیں، نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی ایمان ہے، قرآن میں ہے معمولی مصیبت کا مقصد بڑے عذاب سے آگاہی ہے، اسلام صدقہ وخیرات کے ذریعے مشکلات حل کرنے کا درس دیتا ہے۔

خطبہ حج میں کہا گیا ہےکہ قرآن مجید میں عدل و انصاف کا درس دیا گیا ہے، اسلام کسی بھی قسم کے فتنے کو پھیلانے سے روکتا ہے، اسلامی تعلیمات ہر اس چیز سے اجتناب کا درس دیتی ہے جو انسانی صحت کے لیے مضر ہو، اللہ نے انبیا کو تذکیہ نفس کے لیے بھیجا، اللہ نے مرد وعورت کوباہمی احترام اور خیال رکھنے کا درس دیا ہے، اسلام غربا اور مساکین کے حقوق کا تحفظ رکھنے کابھی درس دیتا ہے۔

شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی جگہ وبائی مرض پھیلے تو وہاں نہ جاؤ، جس جگہ وبائی مرض ہو وہاں کے لوگ کسی اور جگہ نہ جائیں۔

حجاج پورا دن عرفات میں گزاریں گے اس دوران امت کی فلاح و بہبود کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔

غروب آفتاب کے بعد وہ مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں اکٹھی ادا کریں گے اور رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔

مزدلفہ میں وہ کنکریاں جمع کریں گے جو کل صبح شیطان کو ماری جائیں گی۔

مزدلفہ میں نماز فجر ادا کرنے کے بعد وہ دیگر مناسک حج کے لئے منیٰ روانہ ہونگے۔

رواں سال عازمین حج ہجوم میں کندھے سے کندھا ملانے کے بجائے سماجی فاصلے برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے دور اور بیس ،بیس افراد کے گروپوں میں مناسک حج ادا کر رہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جائے۔

رواں سال سعودی عرب میں پہلے سے مقیم صرف ایک ہزار افراد کو حج ادا کرنے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

Share this story

Leave a Reply