سانحہ اے پی ایس کی چھٹی برسی، ظلم وبربریت کی داستان بھلانا ناممکن

Share this story

لاہور: 16 دسمبر 2014ء کا دن پاکستانی قوم کے ذہنوں سے کبھی نہیں نکل سکتا کیونکہ اس روز دہشتگردوں نے سکول میں زیر تعلیم بچوں کیساتھ ظلم وبربریت کی ایسی داستان رقم کی جسے بھلانا ناممکن ہے۔

سفاک دشمن نے  قوم کے ننھے معماروں کو نشانہ بنایا اور 132 بچوں سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد شہید ہوئے۔

16دسمبر2014 کا سورج معمول کے مطابق طلوع ہوا۔ صبح دس بچ کر چالیس منٹ پر چھ  دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔

پشاور کی فضا دھماکوں اور گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھی، جدید اسحلے سے لیس امن دشمنوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔

علم کی روشنی پھیلانے والے اساتذہ نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کی فرض شناسی برسوں یاد رکھی جائے گی جو دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

دہشتگردوں نے معصوم بچوں کے خواب توچھین لیے مگر اس سفاکیت سے قوم کا عزم کمزورنہیں ہوا۔

سپریم کورٹ نے رواں سال 25 ستمبر 2020ء کو سانحہ اے پی ایس بارے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر اپنے تاریخی ریمارکس میں کہا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کیلئے اوپر سے اس کا آغاز کریں۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی 525 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشتگرد پاک فوج کو آپریشن ضرب عضب اور خیبرون سے روکنا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عام کی گئی سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں اس کا ذمہ دار سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔

Share this story