Sialkot Incident: Arrest of mastermind

سانحہ سیالکوٹ‌ کے مرکزی ملزم سمیت 100 گرفتار

Share this story

سیالکوٹ:  پنجاب پولیس نے سانحہ سیالکوٹ واقعے کے مرکزی ملزم فرحان ادریس سمیت 100 سے زائد ملزمان کو  حراست میں لے لیا۔

پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سری لنکن شہری کی ہلاکت کےواقعےمیں پنجاب پولیس نے اہم پیشرفت حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتارکرلیا ہے۔

ملزم کو وقوعہ کے وقت بنائے جانے والی ویڈیو میں تشددکرتےاور ہجوم کو اشتعال دلاتے ہوئے دیکھاجاسکتا ہے، علاوہ ازیں وقوعہ میں ملوث 100 سے زائد افراد کو گرفتار ملزم اور ویڈیوز کی شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے، جن کے کردار کا تعین فوٹیجز کی مدد سے کیا جارہا ہے

ترجمان کے مطابق آئی جی خود اس واقعے کی نگرانی کررہے ہیں جبکہ سینئر افسران خود فیلڈ پر موجود ہیں، ہجوم میں شامل باقی ملازمین کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پنجاب پولیس کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیاگیاہے۔

ترجمان پنجاب حکومت

دوسری جانب پنجاب حکومت حسان خاور کے ترجمان نے تصدیق کی کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد میں سے اب تک 100 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں  2اہم مجرم فرحان ادریس اور عثمان رشید شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ انسداددہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، گرفتار ملزمان کے ساتھ مقدمے کی نوعیت کی روشنی میں ہی سلوک برتا جائے گا۔

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت

اُدھر اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا کہ سیالکوٹ واقعےکی جتنی مذمت کی جائےکم ہے،واقعہ صبح 11 بج کر26منٹ پرپیش آیا، پولیس اطلاع ملتے ہی موقع پرپہنچ گئی تھی، جہاں اہلکاروں نے مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی اور موبائل فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی شناخت جاری ہے، واقعے میں ملوث100 سے زائد افراد کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے، پولیس ٹیمیں اس وقت واقعےکی تحقیقات میں مصروف ہیں جبکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار خود سارے معاملے کی نگرانی کررہے ہیں۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اس بات کی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں کہ واقعہ کتنے لوگوں نے شروع کیا اور اس کی اصل وجوہات کیا تھیں، 2،4 لوگ نہیں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے،  جولوگ واقعےمیں ملوث ہیں انہیں قانون کےمطابق سزادی جائےگی۔

وزیر قانون نے بتایا کہ  وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے واضح ہدایت کی کہ ملوث افرادکو معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن کے خلاف کوئی رعایت برتی جائے گی، گرفتارملزمان کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایاجائے گا۔

انہوں نے اس واقعے کے ماضی میں پیش آنے والے واقعات سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ  یہ دیگر معاملات سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ فیصل آباد میں بربریت کا مظاہرہ کیاگیا، بربریت کرنے والوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں کی جائے گی۔

سانحہ سیالکوٹ

یاد رہے کہ آج صبح سیالکوٹ کے علاقے وزیرآباد میں قائم فیکٹری کے غیرملکی منیجر پرانتھا کمارکو ملازمین نے وحشیانہ تشدد کر کے قتل کیا اور لاش کو کھینچ کر چوک تک لائے، جس کے بعد  جنونی ہجوم میں شامل مشتعل افراد نے لاش کو نذر آتش کردیا۔

فیکٹری انتظامیہ کے مطابق پرانتھاکمارا کا تعلق سری لنکا سے تھا جبکہ وہ گزشتہ 9سال سے لیدر فیکٹری میں بطور جنرل مینیجر اپنے امور انجام دے رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت دیگر حکومتی شخصیات نے اس افسوسناک واقعے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی اور ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کر کے غیر انسانی فعل میں ملوث افراد کو ہر صورت گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا۔

This article originally appeared on ARY News

Share this story