سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط پر اسرائیل کیساتھ تعلقات کیلئے تیار

Share this story

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط پر اسرائیل کے ساتھ مکمل طور پر تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزاد ہ فیصل بن فرحان نے آج مانامہ میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سیکورٹی سٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اسرائیل خطے میں اپنا مقام حاصل کرے گا لیکن ہمیں چاہیے کہ فلسطینیوں کے آزاد ملک کے حصول میں تعاون کریں اور صورتحال کو معمول پر لانے میں مدد دیں۔

شہزاد ہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’’ہم اسرائیل کے ساتھ معمول کے مکمل تعلقات استوار کرنے کے لیے ہمیشہ سے تیاررہے ہیں اور ہمارا یہ خیال ہے کہ اسرائیل کو خطے میں اس کا مقام ملے گا لیکن اس کو وقوع پذیر ہونے اوراس کی پائیداری کے لیے ہمیں فلسطینیوں کی ریاست قائم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا۔‘‘

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام ہی سے خطے میں حقیقی امن قائم ہوگا اور اسی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ستمبر میں اسرائیل کے ساتھ معاہدۂ ابراہیم کے نام سے الگ الگ امن معاہدے طے کیے تھے۔ان دونوں عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار ہونے کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اب سعودی عرب بھی صہیونی ریاست کے ساتھ امن معاہدہ اور پھر معمول کے تعلقات استوار کرلے گا لیکن وہ پہلے بھی اپنی اس پیشگی شرط کا اعادہ کرچکا ہے کہ اس سے پہلے آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے۔

Share this story