سعودی عرب میں کرپشن کا سب سے بڑا کیس منظر عام پر آگیا، 22 افراد گرفتار، 600 ملین ریال برآمد 

Share this story

جدہ (پاک جرگہ، 17th October, 2020) سعودی عرب میں حکام نے 600 ملین سعودی ریال (160 ملین ڈالر) سے زیادہ رقم ضبط کر لی اور 22 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسے مملکت میں “سب سے بڑا واقعہ” قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق  سعودی نگرانی اور انسداد بدعنوانی اتھارٹی (Nazaha) کے جرائم کی تفتیش کاروں نے ریاض کے علاقے میں بلدیہ کے 13 سرکاری ملازمین، چار کاروباری افراد اور پانچ غیر ملکیوں کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار کرلیا۔

ملزمان کی رہائش گاہوں کی تلاشی کے دوران عہدیداروں کو 193 ملین سعودی ریال سے زیادہ کی نقد رقم چھتوں، مسجد میں ایک سروس رووم، پانی کے ٹینک اور زیرزمین سیف میں پڑی ہوئی ملی۔

گرفتار افراد کے پاس غیر قانونی زرائع سے حاصل کی گئی دولت سے خریدی گئی جائیدادوں کا ریکارڈ بھی برآمد ہوا، جس کا تخمینہ 142 سعودی ریال لگایا گیا ہے۔

مزید برآں، نزاہا نے ملزمان کے بینک اکاؤنٹس سے تقریبا 150 ملین ریال بھی ضبط کر لیے۔ مزید تفتیش کے نتیجے میں سامنے آیا کہ ایک ملزم نے وزارت خزانہ کے Etimad متفقہ ڈیجیٹل سروسز کے پلیٹ فارم کے ذریعے تجارتی اداروں کے لئے 110 ریال سے زیادہ رقم کی ادائیگی کے لئے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔

کرپشن کے دیگر الزامات میں 2.5 ملین مالیت کے گروسری پری پیڈ کارڈ، تقریبا 150،000 ریال کے فیول پری پیڈ کارڈ اور غیر ملکی کرنسیوں میں SR4.1 ملین سے زیادہ کی رقم بھی شامل ہے۔

Photo courtesy Arab News

Share this story

Leave a Reply