سینئر ایرانی کمانڈر کی عراق – شام کی سرحد کے قریب ڈرون حملے میں ہلاکت کی اطلاعات

Share this story

اطلاعات کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کے ایک سینئر کمانڈر کو اتوار کی شب شام – عراق سرحد کے قریب ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ حملہ ایران کے ایٹمی سائنسدان فخری زادے کے قتل کے صرف دو دن بعد ہوا ہے۔

متعدد ذرائع ابلاغ نے عراقی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر سرحد کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں آئی آر جی سی کے کمانڈر اور ان کے تین محافظ ہلاک ہوگئے۔

کہا جاتا ہے کہ اس ڈرون حملے میں سینئر کمانڈر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ عراق سے القائم بارڈر کراسنگ کے راستے شام میں داخل ہوئے۔

یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ان افراد کی لاشیں عراقی دارالحکومت بغداد منتقل کردی گئیں ہیں۔ ایران نے اب تک اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

خلیجی خبر رساں ادارے العربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی ذرائع کے مطابق  ایرانی کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر مسلم شاہدان کو عراق اور شام کی سرحد پر ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔  دوسری جانب لبنانی نیوز چینل المائدین نے اپنے ذرائع سے اس خبر کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز تہران کے شمال میں معروف ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ایرانی عہدیداروں نے اس کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پرامریکا کی جانب سے راکٹ حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔  راکٹ حملے میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں تصدیق کی تھی کہ یہ حملہ امریکا کی جانب سے کیا گیا تھا۔

Share this story