سینیٹ کی 37 نشستوں کیلیے پولنگ آج ہوگی

Share this story

سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے پولنگ بدھ 3 مارچ کو خفیہ رائے شماری کے تحت ہوگی جس کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی تیاریاں مکمل کرلیں۔

الیکشن کمیشن نے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا ہے کہ امیدواروں کے لیے ریٹائرمنٹ اور انتخابی مہم کا وقت ختم ہوچکا اب کسی نے مہم چلائی تو کرپٹ پریکٹسز کے تحت کارروائی ہوگی۔

انتخابی عمل میں بد عنوانی و بے قائدگی روکنے کے لیے ویجیلنس کمیٹی اور خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کردیا گیا ہے۔ ایف بی آر، نیب، اسٹیٹ بنک اور نادرا کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بدعنوانی سے متعلق معلومات فراہم کرے گی جبکہ بوقت ضرورت انکوائری بھی کرسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی رائے پر من و عن عمل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹنگ پرانے طریقہ کارکے تحت خفیہ ہی ہوگی۔

سینیٹ کے آئندہ الیکشن میں ٹیکنالوجی کےاستعمال کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن نے ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 4 ہفتے میں اپنی سفارشات جمع کرائے گی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی ميں تو ہر صوبے کو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سيٹيں ملتی ہيں ليکن ايوان بالا يا سينيٹ ميں تمام صوبائی اکائيوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے يعنی سینیٹ میں ہر صوبے کے تئیس تئیس ارکان ہوتے ہيں جن ميں سے 14 عمومی ارکان، 4 خواتين، 4 ٹيکنوکريٹ اور ايک اقليتی رکن ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں سینیٹ میں اسلام آباد سے 4 ارکان ہوتے ہيں جن ميں سے 2عمومی ايک خاتون اور ايک ٹيکنوکريٹ نشست رکن کی نشست ہوتی ہے۔

سینیٹر کی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے اراکین منتخب ہوکر آتے ہیں۔ فاٹا کے انضمام کے بعد اس بار 48 نشستوں پر اليکشن ہو رہے ہيں۔

سينيٹ کے 52 اراکين اپنی 6 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 11 مارچ کوريٹائر ہورہے ہيں۔ پی ٹی آئی کے کے 14 سینیٹرز ہیں جن میں سے 7 ریٹائر ہوجائیں گے.

پیپلز پارٹی کے8 سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں اور اسے6 سیٹوں پر کامیابی کی امید ہے جس کے بعد اس کی نشستیں21 سے کم ہوکر19 رہ جائیں گی اور وہ سینیٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔

سینیٹ انتخابات کے بعد مسلم ليگ اپوزيشن کي سب سے بڑی پارٹی کے اعزازسے محروم ہوجائے گی اس کے 9 سينيٹرز ريٹائرہورہے ہيں اور پنجاب سے 5 سيٹوں پرکاميابی کے بعد اس کے اراکين کي تعداد 17 ہوجائے گی۔

This article originally appeared on Samaa TV

Share this story