شیخ رشید پاکستان کے نئے وزیرِ داخلہ، کیا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے؟

Share this story

مبصرین کے مطابق سابق وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کا دور ایک خاموش دور تھا جس کی وجہ سے تحریکِ انصاف کو مشکلات پیش آئیں۔ اسی مقصد کے لیے اب شیخ رشید کو سامنے لایا گیا ہے۔

اسلام آباد — پاکستان میں ایک طرف حکومت مخالف تحریک زوروں پر ہے تو وہیں وزیرِ اعظم عمران خان وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں لے آئے ہیں۔ سیاسی مبصرین وزرا کے قلم دانوں کی تبدیلی کو مزاحمت کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

وفاقی کابینہ میں رد و بدل وزیرِ اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد کیا گیا جب کہ کابینہ ڈویژن نے جمعے کو اس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق شیخ رشید کو وزارتِ ریلوے سے ہٹا کر وزارتِ داخلہ، اعظم سواتی کو انسدادِ منشیات کی وزارت سے ہٹا کر وزارتِ ریلوے اور بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو وزیرِ داخلہ سے ہٹا کر وزارتِ انسداد منشیات کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ جیسی اہم وزارت کا قلم دان شیخ رشید کو دیے جانے کو سیاسی مبصرین اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بطور وزیرِ داخلہ شیخ رشید حزبِ اختلاف کے اتحاد ‘پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’ کی حکومت مخالف تحریک کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں شیخ رشید کی بطور وزیر داخلہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سرگرمیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔

اُن کے بقول شیخ رشید کی تقرری سے سیاسی منظر نامے میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ شیخ رشید وزیرِ داخلہ کے ساتھ ساتھ حکومت کے ترجمان بھی ہوں گے، کیونکہ ان کی لفاظی اور بات چیت حکومت کے لیے بہت اہم ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں شیخ رشید کی زیادہ صلاحیت ترجمان کی ہے اور پی ڈی ایم کی تحریک اور ان کے بیانیے کو جواب دینے کے لیے شیخ رشید کی صلاحیتیں حکومت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔

سابق وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اُن کا دور ایک خاموش دور تھا، جس کی وجہ سے حکمراں جماعت تحریک انصاف کو مشکلات پیش آئیں اور اسی مقصد کے لیے اب شیخ رشید کو سامنے لایا گیا ہے۔

This article originally appeared on VOA Urdu

Share this story