فرانسیسی صدر کے خلاف ایردوان کے بیان پر فرانس نے احتجاجاً اپنا سفیر واپس بلا لیا

Share this story

ویب ڈیسک — فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے اسلام سے متعلق مبینہ بیان پر ترک صدر کی جانب سے اُنہیں دماغ کا علاج کرانے کے مشورے کے بعد فرانس نے احتجاجاً اپنا سفیر انقرہ سے واپس بلا لیا ہے۔

فرانس نے ترکی کے صدر کے بیانات کو ناقابل قبول اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔

فرانس اور ترکی کے درمیان حالیہ مہینوں میں کئی بین الاقوامی اُمور سمیت بہت سے مسائل پر کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں میں تازہ ترین بیانات کا تبادلہ ایک فرانسیسی استاد کے قتل اور صدر میکخواں کے مسلمانوں کے متعلق بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق صدر ایردوان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کی ذہنی حالت پر اس وقت سوال اٹھایا جب انہوں نے میکخواں کے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل فرانس میں سمیوئیل پیٹی نامی تاریخ کے اُستاد نے کلاس روم میں مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کے خاکے دکھائے تھے۔ جس کے بعد اُنہیں پیرس میں اسکول کے باہر ایک نوجوان نے قتل کر دیا تھا۔ پولیس کی فائرنگ سے مذکورہ نوجوان بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

واقعے کے بعد فرانس میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا جب کہ فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ اُن کے ملک میں بنیاد پرست مسلمانوں کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ایردوان نے اپنی جسٹس اینڈ ڈیویلپمینٹ پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا کہ “یہ شخص جس کا نام ایمانوئل میکخواں ہے اس کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ کسی ریاست کے سربراہ کے متعلق کیا کہا جائے جسے عقائد کی آزادی کا فہم نہیں اور جو اپنے ہی ملک میں بسنے والے کسی دوسرے مذہب کے لوگوں سے متعلق یہ خیالات رکھتا ہے۔

ایردوان کے اس بیان کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد فرانسیسی صدارتی دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ہم اس توہین کو قبول ںہیں کریں گے۔

غیر معمولی طورپر سخت زبان کا استعمال کرتے ہوئے صدارتی دفتر نے کہا کہ فرانس مطالبہ کرتا ہے کہ ایردوان اپنی پالیسی کو تبدیل کریں کیوں کہ یہ ہر لحاظ سے خطرناک ہے۔

صدارتی دفتر نے کہا کہ ایردوان جو کہ ایک کٹر مسلمان ہیں انہوں نے گزشتہ ہفتے اس فرانسیسی استاد کے سر قلم ہونے پر کوئی اظہارِ تعزیت نہیں کیا جسے پیغمبرِ اسلام کے خاکے دکھانے کی پاداش میں ہلاک کر دیا گیا۔

فرانسیسی محکمہ انصاف قتل کے اس واقعے کی ‘اسلامی دہشت گردی’ کے پہلوؤں کے تحت تفتیش کر رہا ہے۔

فرانس اور ترکی دونوں نیٹو اتحادی ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک میں شام، لیبیا اور ناگورنو کاراباخ کے مسائل پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

فرانسیسی صدر نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرتے ہوئے لیبیا میں اپنی فوجی تعداد بڑھائی ہے اور وہاں شامی جنگجوؤں کو لا رہا ہے۔

This article originally appeared on VOA Urdu

Share this story

Leave a Reply