فلسطینیوں کا اسرائیل کے ساتھ عربوں کے معاہدے پر احتجاج

Share this story

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ بحرین ، متحدہ عرب امارات کے معاہدوں کے بعد صرف اسرائیلی مقبوضہ علاقوں سے انخلا ہی مشرق وسطی میں امن لا سکتا ہے۔

فلسطین (پاک جرگہ، 15th September, 2020) منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں سیکڑوں فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے معاہدوں کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں راکٹ فائر کیے جانے پر احتجاج کیا۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے تعاون سے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے موقعے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بحرینی اور اماراتی عہدیداروں سے ملاقات کی۔

مظاہرین، جنہوں نے فلسطینی جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور کورونا کی وجہ سے ماسک پہنے ہوئے تھے،  نے مغربی کنارے کے شہر نابلس اور ہیبرون اور غزہ میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے مرکز رملہ میں بھی ایک مظاہرے میں درجنوں افراد نے حصہ لیا۔

مظاہرین نے “غداری” ، “قبضہ کار کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا ناممکن” ، اور “شرمندگی کے معاہدے” جسے احتجاجی بنیرز اٹھائے ہوئے تھے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ صرف مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کا انخلا ہی مشرق وسطی میں امن لا سکتا ہے۔

دونوں خلیجی ریاستوں کی طرف سے اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے عربی میں ‘یوم سیاہ’ ہیش ٹیگ کا آغاز کیا۔

فتاح پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سکریٹری جبریل راجوب نے صحافیوں کو بتایا کہ “آج واشنگٹن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سرکاری طور پر عرب آرڈر کو ختم کرنے کی ایک شکل ہے”۔

ترجمہ: اس سیاہ دن پر ، شرمندگی اور بے شرمی کے معاہدوں پر غداروں کے دستخط اس سیاہی کے قابل نہیں ہیں جسے انہوں نے استمال کیا۔ فلسطین آزاد لوگوں کی وجہ سے ہے اور ہمیشہ انقلابیوں کا مرکز رہے گا۔

Share this story

Leave a Reply