قومی اسمبلی کی فرانسیسی رسالے میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے بارے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی پرزور مذمت

Share this story

آج(منگل) قومی اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں فرانس کے رسالے چارلی ہیبڈو میں خاتم النبین حضر ت محمد مصطفی ﷺ کے بارے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی پر زور مذمت کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کے رکن امجد علی خان نے قرار داد پیش کی جس میں پیغمبر اسلام ۖ کیخلاف گستاخانہ اقدام کی پر زور مذمت کی گئی ۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی رسالے نے پہلی مرتبہ 2015میں پیغمبر اسلام  ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک کی جانب سے شدید رد عمل اور پر زور احتجاج کے باوجود ایک بار پھر دانستہ طور پر یہ کوشش کی گئی ہے جس کامقصد بین الاقوامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔

قرارد اد میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے آزادی اظہار کے نام پر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والے عناصر کی حوصلہ افزائی قابل افسوس ہے۔قرار داد میں ایوان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے بارے میں تفصیلی بحث کرے۔

تمام یورپی ممالک با لخصوص فرانس کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔تمام اسلامی ممالک کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تا کہ رسول پاک ﷺ کی عزت و ناموس کے مسئلے کو عالمی فورمز پر مل کر اٹھایا جا سکے۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات کا فیصلہ کرنا صرف ریاست کا اختیار ہے اور کوئی انفرادی گروپ یا پارٹی اس سلسلے میں دبائو نہیں ڈال سکتی۔

قرار داد میں صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ تمام ضلعوں میں احتجاج کیلئے خصوصی مقامات کا تعین کریں تا کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی متاثر نہ ہو۔

قومی اسمبلی کے ارکان نے قرار داد پر بحث شروع کی جو اگلے اجلاس میں جاری رہے گی جو جمعے کو صبح گیارہ بجے شروع ہوگا۔

Share this story