متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کیساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے

Share this story

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مزید پانچ سے چھ ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے انتہائی قریب ہیں

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کیساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کی تقریب وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔

اسرائیل کیساتھ ہونے والا یہ امن معاہدہ انگلش، عربی اور عبرانی زبان میں لکھا گیا ہے۔ دستخط کرنے کے بعد چاروں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔

اس معاہدے کے بعد  یہ ممالک تیسری اور چوتھی عرب اسٹیٹ بن گئے ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے  ہیں- اس سے پہلے 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زید کا اس موقع پر اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کے بغیر یہ معاہدہ طے پانا ممکن نہیں تھا۔ امن معاہدہ یو اے ای، امریکا اور اسرائیل تینوں کی کامیابی ہے۔

شہزادہ عبد اللہ بن زید نے کہا کہ پرامن اور مستحکم مستقبل ہر کسی کی خواہش ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی سرگرمی ہمیشہ سے مثبت رہی ہے۔ خلائی مشن بھیج کر یو اے ای نے ثابت کیا کہ خطے میں پوٹینشل موجود ہے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ کئی سالوں سے مشرق وسطیٰ جنگ وجدل میں گھرا رہا، یہ معاہدہ اسرائیل فلسطین امن کی راہ ہموار کرے گا۔

اس تاریخی موقع پر اپنے خطاب میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بطور صدر میں نے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا تھا۔ سعودی عرب میں مجھے تمام عرب ممالک کے سربراہوں سے گفتگو کا موقع ملا۔ آج کا دن دنیا اور امن کے لیے بہت بڑا دن ہے۔ مشرق وسطیٰ کے شہری امن واستحکام سے رہ سکیں گے۔

تقریب سے پہلے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مزید پانچ سے چھ ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے انتہائی قریب ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں یو اے ای کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے میں ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اُدھر قطر نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ قطری حکومت کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا مسئلہ فلسطین کا حل نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تب تک حل نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینی ایک مقبوضہ علاقے میں مجبور رہیں گے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے کثیر الجہتی امور کے معاون وزیر عمار حجازی نے کہا کہ معاہدوں پر دستخط “افسوسناک دن” تھا۔

عمار حجازی  نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “فلسطینیوں کے لئے امن کا واحد راستہ اس وحشیانہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور فلسطینیوں کو حق خودارادیت دینا ہے۔ اس کے بغیر خطے میں امن کا کوئی راستہ نہیں ہے۔”

حجازی نے وائٹ ہاؤس میں دستخط کرنے کی تقریب کو ایک “فوٹو آپ” قرار دیا ہے جس میں “اسرائیل کو اس خطے کا پولیس مین بنادیا گیا ہے” اور اس خطے میں مزید امریکی اسلحے کی فروخت کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔

Share this story

Leave a Reply