مسلم مخالف پالیسیاں، میکرون کو دماغی معائنے کی ضرورت ہے: ترک صدر

Share this story

انقرہ: (ویب ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا انتباہی انداز میں کہنا ہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کو دماغی معائنے کی ضرورت ہے۔

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں ترک صدر نے فرانسیی ہم منصب میکرون کو ان کی مسلم مخالف پالیسیوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ترک خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ کے مطابق رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ یورپ مسلمانوں کے خلاف جا کر یورپ اپنے لیے گڑھے کھود رہا ہے، یورپی ممالک کو اس بیماری سے جلد از جلد جان چھڑا لینی چاہیے۔

فرانسیسی صدر میکرون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسے سربراہِ مملکت کے بارے میں سوائے اس کےکیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے دماغ کا معائنہ کروائے جو اپنی ریاست کے مختلف مذہب سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد سے ایسا برتاؤ کرتا ہے۔

خیال رہےکہ فرانسسیی صدرکے حالیہ دنوں سامنے آنے والے بیانات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو نجی شعبے میں بھی لاگو کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسلام ایک مذہب کے طور پر دنیا بھر میں بحران کا شکار ہے، وہ فرانس کی سیکیولر اقدار کو ’سخت گیر اسلام‘ سے محفوظ بنائیں گے۔

اُدھر فرانسیسی صدرمیکرون کے خلاف سخت ریمارکس پر فرانس نے اپنے سفیر کو ترکی سے واپس بلا لیا ہے۔

دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان نے جرمن دارالحکومت برلن کی مولانا جامع مسجد پر پولیس چھاپے کی مذمت کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پیغام میں اردوان نے کہا ہے کہ برلن میں نسل پرستی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ ہوا ہے، اعتقاد کی حریت کو پاؤں تلے روندھنے والی پولیس کارروائی کی میں شدید مذمت کرتا ہوں، نیک تمنائیں جماعت کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کسی بھی سبب کے کسی مقدس مقام کی بے ادبی کا موجب نہ بن سکنے پر یقین رکھتا ہے۔ چاہے کس مقام پر بھی کیوں نہ ہو، نسل پرستی، غیر ملکی دشمنی اور اسلام دشمنی جیسے گندے عزائم کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

ترک صدر نے کہا کہ سالہا سال سے جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے گہوارے کے طور پر مانے جانے والا یورپ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج اپنے سے مختلف عقائد اور انسانو ں کے خلاف جنگ کی کرنے کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔

برلن میں کورونا وبا کے دوران نقصان پہنچنے والے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کو غیر حق بجانب مالی امداد دیے جانے کے دعوے کے ساتھ چار کاروباری مراکز سمیت مسجد پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

مزید برآں ایران نے بھی فرانس کے خلاف صدا بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ملک میں اسلام مخالف قانون اور گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے، جس سے نفرت بڑھے گی اور بنیاد پرستی اور تشدد کو ہوا مل سکتی ہے۔ فرانسیسی اقدام ناقابل قبول ہیں۔

This article originally appeared on Dunya News

Share this story

Leave a Reply