وزیراعظم کا ہفتے کو قومی اسمبلی سے اوپن بیلٹ کے ذریعے پھر سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان

Share this story

وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو قومی اسمبلی سے اوپن بیلٹ کے ذریعے پھر سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے آج شام ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف سابقہ حکومتوں کی جانب سے اس کے خلاف شروع کیے گئے بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لئے حکومت پر دبائو ڈالنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ بد عنوان عناصر کی بلیک میلنگ کے باوجود انہیں این آر او نہیں دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ انہیں اقتدار کھونے کا کوئی ڈر نہیں ہے کیونکہ ان کے کوئی مالی مفادات نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چاہے وہ اقتدار میں رہیں یانہ رہیں وہ قانون اور انصا ف کی بالادستی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے

حالیہ سینٹ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ کے اس مقدس ایوان میں ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں خریدنے میں پیسے کے استعمال کی روایت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جعلسازی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے جتنی نشستیں جیتی ہیں ان کے باعث ایوان بالا میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو بڑی جما عتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون خفیہ بیلٹ کے حق میں تھیں تاکہ وہ ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں خرید سکیں۔

وزیرا عظم نے کہا کہ وہ اوپن بیلٹ کے حق میں تھے تاکہ پیسے کے استعمال کو روکاجاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے ان کی جماعت نے سپریم کورٹ سے بھی رجو ع کیا اور عدالت عظمی نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں۔

وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ بیلٹ نے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرسکتا تھا تاکہ اس بات کا پتہ لگتا کہ سینٹ الیکشن میں کس نے وفاداریاں بدلیں۔

عمران خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ صحافی بدعنوان لوگوں کو بچانے کے لئے عدالتوں میں گئے۔

Share this story