ٹرمپ کی رخصت، بائیڈن کی آمد، وائٹ ہاؤس میں کیا تیاریاں ہو رہی ہیں؟

Share this story

وائٹ ہاؤس سے ٹرمپ کی صدارت کے آخری نقوش بھی مٹائے جا رہے ہیں تاکہ نو منتخب صدر جو بائیڈن حلف اٹھانے کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی یہاں منتقل ہو سکیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق وائٹ ہاؤس کی تمام دفتری میزیں خالی کر دی گئی ہیں، کمروں کی اچھی طرح صفائی ستھرائی کر دی گئی ہے تاکہ نو منتخب صدر اپنے معاونین اور مشیروں کی نئی ٹیم کے ساتھ فوری طور پر اپنا کام شروع کر سکیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد اقتدار منتقلی کے عمل کا یہ بہت بڑا حصہ ہے جس سے نئی حکومت کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے میں مدد ملتی ہے۔

گزشتہ ہفتے کی ایک شام ٹرمپ انتظامیہ کے کلیدی عہدیدار سٹیفن ملر وائٹ ہاؤس کے مغربی حصہ میں رہ رہے تھے۔

ملر جو پہلے دن سے صدر ٹرمپ کی پالیسیاں مرتب کروانے اور ان کی تقاریر لکھنے میں معاونت کرتے رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی ابتدائی ٹیم کے ان چند لوگوں میں شامل رہے ہیں جو آخر تک ان کے ساتھ رہیں گے۔

دیوار کا سہارا لیے اپنے ساتھیوں سے کسی میٹنگ کا وقت مقرر کرنے کے لیے گفتگو کرتے ہوئے وہ قطعاً کسی عجلت میں نظر نہیں آئے۔

وائٹ ہاوس سے تصاویر اور دستاویزات لے جائی جا رہی ہیں

وائٹ ہاؤس کا مغربی حصہ جو عام طور پر کافی پررونق اور مصروف رہتا ہے سنسان نظر آ رہا تھا۔ فون بند تھے۔ تمام دفاتر میں میزوں پر کاغذات اور بغیر کھلے خطوط بکھرے ہوئے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان دفتروں میں کام کرنے والے افسران جلدی میں سب کچھ چھوڑ کر نکل گئے ہیں اور واپس آنے والے نہیں۔

درجنوں سنیئر حکام اور معاونین کیپیٹل ہل پر چھ جنوری کو ہونے والے حملے کے بعد مستعفی ہو گئے تھے۔

بات چیت ختم کر کے جب ملر اپنے ساتھیوں سے علیحدہ ہو کر واپس جانے لگے تو اس وقت میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی اگلی منزل کیا ہو گی تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’میرا دفتر‘ اور لمبے لمبے قدم بھرتے ہوئے اپنے دفتر کی طرف چلے گئے۔

حلف برداری کے دن ملر کے دفتر کو صاف ستھرا اور تمام نشانیوں سے پاک ہونا چاہیے تاکہ بائیڈن کی ٹیم یہاں اپنا کام شروع کر سکے اور انھیں ایسا محسوس نہ ہو کہ ان سے پہلے یہاں کسی اور نے کبھی کام کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مغربی حصے کی ہر چار سال بعد اس انداز میں صفائی، امریکہ میں اقتدار منتقلی کی دو صدیوں سے زیادہ عرصے پر محیط سیاسی روایات کا ہمیشہ سے اہم جز رہی ہے۔

یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں ہمیشہ گرمجوشی شامل نہیں ہوتی۔

حلف برداری کے دن نائب صدر مائیک پینس بھی نو منتخب نائب صدر کمالا ہیرس کے لیے سرکاری رہائش گاہ کی انیسویں صدی کی عمارت کو، جو وائٹ ہاؤس سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے، خالی کریں گے۔

More on this story from BBC Urdu

Share this story