پاکستان کا اقوام متحدہ سے 10 بھارتی جعلی غیر سرکاری تنظیموں کی تحقیقات کا مطالبہ

Share this story

پاکستان نے اقوام متحدہ اور اس کے انسانی حقوق کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے قائم کی گئی دس جعلی غیرسرکاری تنظیموں کی تحقیقات اور انہیں فہرست سے نکالنے کا عمل فوری طور پر شروع کریں۔

یہ مطالبہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور قومی سلامتی کے بارے میں معاون خصوصی معیدیوسف نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وہ ای یو ڈس انفولیب کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے تناظر میں صحافیوں کو بریفنگ دے رہے تھے جو پاکستان کے خلاف بھارتی پراپیگنڈے اور جعلی آپریشنز کی تفصیلات پر مبنی ہے۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا طریقہ کار وضع کرے جس میں یہ بات یقینی بنائی جائے کہ عالمی نظام ایسے آپریشنز سے متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پارلیمنٹ کو پاکستان مخالف پراپیگنڈے میں ملوث ایسی جعلی تنظیموں کے خلاف جامع تحقیقات شروع کرنی چاہئیں جنہیں بھارت چلا رہا ہے اور اس کے لئے بھرپور فنڈز فراہم کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے عالمی خبررساں اداروں خصوصاً رائٹرز پر زور دیا کہ وہ اے این آئی کے ساتھ اپنے موجودہ اشتراک عمل پر نظرثانی کرے جس کے بارے میں اب ثابت ہو چکا ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے قائم کردہ دو جعلی ویب سائٹس کو مسلسل جعلی خبریں فراہم کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف Hybrid War کے تحت کی جانیوالی کارروائیاں دنیا کے سامنے عیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کی Disinfolab رپورٹ میںگزشتہ 15سال میں بھارت کے آن لائن اور آف لائن آپریشنوں کی تفصیل موجود ہے۔

رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 116 ممالک سے 750 جعلی ویب سائٹس چلائی جا رہی تھیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ساتھ کام کرنے والی دس غیرسرکاری تنظیمیں اور 550 ویب سائٹس جعلی شناخت پر کام کر رہی تھیں۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے معیدیوسف نے کہا کہ بھارتی مجرمانہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کے لئے ایک مافیا کا کردار ادا کر رہی ہے۔

Share this story