پی ڈی ایم کے اہداف اور حکومتی کارگزاری

Share this story

پی ڈی ایم کے اہداف اور حکومتی کارگزاری

صابر شاکر

 

قومی و ملکی سیاست کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ستر سالہ تاریخ میں ہر طرح کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ سیاسی کلچر بہت ہی سادہ اور آسان ہے۔ یہ دیکھیں کہ سیاسی جماعتوں کا کردار اور رویہ اقتدار میں کیسا ہوتا ہے اور یہ جماعتیں اپوزیشن میں ہوں تو ان کے رویے کیسے ہوتے ہیں۔ حکومت کب اور کیسے گرتی ہے اور اگر اسے قبل از وقت گرانا مقصود ہو تو اس کے لوازمات کیا ہیں؟ چونکہ موجودہ تمام قومی اور علاقائی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں تجربہ کار ہیں اور ایسے تمام مراحل سے گزر کر کندن بن چکی ہیں، ظاہری اور باطنی سیاسی اور غیر سیاسی کلچر سے بخوبی آگاہی رکھتی ہیں، انہیں معلوم ہے کہ سیاسی کھیل کیسے کھیلنا ہے اور میچ جیتنے کیلئے کن کن عوامل، تیاریوں اور حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا انہیں اپنے ماضی کے کسی عمل پر نہ تو کسی قسم کی ندامت ہوتی ہے اور نہ ہی جواب دہی کا احساس ہوتا ہے بلکہ یہ لوگ ہر بار اس انداز سے خم ٹھونک کر میدان میں اترتے ہیں کہ عوام کے ذہنوں سے ماضی کا سب کُچھ ڈیلیٹ ہو چکا ہو گا۔

ایسا ہی کُچھ حال ہماری غیر سیاسی قیادتوں کا بھی رہا۔ جب جس کی ضرورت محسوس ہوئی اسے بے دریغ استعمال کیا اور جیسے ہی معاملہ بگڑنے لگے تو اس انداز سے خُدا حافِظ کہا جاتا ہے کہ خود کو ناگزیر سمجھنے والے کو سنبھلنے اور سوچنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ سیاسی اور غیر سیاسی قیادتیں جو بوتی ہیں وہی کاٹ رہی ہوتی ہیں لیکن جب بوائی کی جا رہی ہوتی ہے تب ایک اچھے اور سمجھدار کسان کی طرح اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ جیسا بیج ڈالا جائے گا فصل بھی ویسی ہی تیار ہو گی، اچھے بیج کے نتیجے میں ایک اچھی فصل اور ناقص بیج کے نتیجے میں ایک ناقص فصل ہی حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ہر سیاسی جماعت کے اقتدار میں اصول اور ہوتے ہیں، جبکہ اپوزیشن میں وہ تمام اصول بھلا دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ عدم استحکام کا شکار رہے۔ لگتا یہ ہے کہ ہمارا نہ کوئی قومی بیانیہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قومی ہدف جس پر تمام قیادتیں متفق نظر آتی ہوں۔ آصف زرداری، نواز شریف، مولانا، اچکزئی اور دیگر رہنما وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ وہی کُچھ کر رہے ہیں جو پی ٹی آئی نے بطور اپوزیشن ان سب کے ساتھ کیا تھا۔ زرداری اور نواز حکومت گرانے کیلئے دھرنے، جلسے، جلوس، لاک ڈاؤن کئے گئے اور وجہ بتائی جاتی تھی دھاندلی، مہنگائی، بیروزگاری اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات۔ اب انہی راستوں پر، اسی ایجنڈے پر اپوزیشن جماعتوں کا نیا اتحاد تشکیل پا چکا ہے۔ وہی پرانے نعرے اور وہی کہنہ ایجنڈا۔ زرداری حکومت گرانے کیلئے کاری ضرب، افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے مارچ اور میمو گیٹ سیکنڈل کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانا، پھر نواز حکومت گرانے کیلئے عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری میدان میں اترے، لیکن نہ تو پیپلز پارٹی کے حکومت گرائی جا سکی اور نہ ہی نواز حکومت کو دھرنوں، جلسے جلوسوں اور قومی سلامتی کے معاملے پر گرایا جا سکا؛ البتہ وزیر اعظم گیلانی اور نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلوں کے نتیجے میں اپنا اقتدار کھو بیٹھے؛ تاہم دونوں بار پارلیمنٹ نے اپنی پانچ پانچ سالہ مدت پوری کی۔ اس سے قبل بھی صدر پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ق کے تین وزرائے اعظم تبدیل ہوئے لیکن پارلیمنٹ نے اپنی مدت پوری کی، گویا گزشتہ تین پارلیمنٹس کا پندرہ سالہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ مقتدر حلقوں کا یہ طے شدہ فیصلہ اب روایت بن چکا ہے کہ سیاسی عمل کو چلنا چاہئے اور پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنا چاہئے۔ جنرل پرویز مشرف جب وکلا تحریک کے نتیجے میں بہت کمزور ہو چکے تھے تو انہوں نے پارلیمنٹ اور سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے اور مارشل لاء لگانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن کچھ قوتوں نے ایسا نہیں ہونے دیا، جس کے بعد پھر ایمرجنسی لگانا پڑی اور اس کا پھر پرویز مشرف کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میمو گیٹ کے نتیجے میں انتہائی اقدام سے گریز کیا جبکہ جنرل راحیل شریف نے بھی ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے مارشل لاء لگانے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ ایسا ہی رویہ موجودہ سپہ سالار کا بھی رہا ہے۔ انہوں نے بھی خود کو ایک فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ بلاشبہ انہیں انتہائی اقدام کرنے کیلئے سازگار حالات میسر آئے لیکن انہوں نے افہام و تفہیم سے کام لیا اور اب تک خود کو آئینی کردار تک ہی محدود رکھا ہوا ہے۔  

مولانا کے پہلے دھرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں خالی ہاتھ جانا پڑا تھا، اب اپوزیشن زیادہ قوت کے ساتھ حملہ کرنے کے موڈ میں ہے۔ پی ڈی ایم تشکیل تو پا چکی ہے لیکن اس کی تشکیل کیلئے سب کو جو پاپڑ بیلنے پڑے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ پی ڈی ایم کے اہداف کے سلسلے میں دونوں بڑے خاندانوں (زرداری اور شریف) کے اہداف اب تک ایک نہیں ہیں۔ زرداری آج بھی دور کھڑے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ شریف خاندان کے اہداف واضح ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے پہلے ہر صورت میں حکومت گرانا ہے اور اس ہدف میں مولانا ان کے ہمنوا ہیں کیونکہ سینیٹ انتخابات کے نتیجے میں نون لیگ اور مولانا کی پارلیمانی قوت نہ ہونے کے برابر ہو جائے گی اور پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گی، اس لیے نون لیگ سینیٹ کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کیلئے استعفوں کا آپشن بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی، یہ الگ بات کہ نون لیگ کے کچھ ارکان مستعفی ہونے سے انکار کریں گے یا نہیں۔ اس سیاسی ہلچل کے نتیجے میں اگر خدانخواستہ مارشل لا بھی لگے، جس کا اندیشہ بہت کم ہے، تو بھی شریف خاندان کو فائدہ ہی ہوگا، لیکن معاملات حد سے گزر گئے تو پھر کُچھ بھی ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ پیپلز پارٹی کا کردار اور فیصلے بڑے اہم ہوں گے کیونکہ آج سے پہلے شریف خاندان نے بھٹو اور زرداری خاندان سے کبھی بھی وفا نہیں کی۔ اس لئے احتجاجی تحریک کی کامیابی کا انحصار سو فیصد پیپلز پارٹی پر ہوگا۔ زرداری کے تمام وارث نیب سے محفوظ ہیں اور ان کا سیاسی مستقبل روشن ہے جبکہ شریف فیملی کا سیاسی مستقبل اب تک تاریک ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے جاری رہنے سے پی پی پی کو کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے نون لیگ اپنی سیاسی تحریک کا آغاز گوجرانوالہ سے کررہی ہے اور مولانا ان کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ پس پردہ رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

عمران خان صاحب کو بہرحال کسی ایک جماعت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑے گا اور وہ ہے پیپلزپارٹی کیونکہ اس موقع پر ان کی ضد نون لیگ اور پی پی پی کو ایک کر سکتی ہے اور اگر دونوں ایک ہوگئے تو پھر عمران خان صاحب کو مائنس ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ پی ڈی ایم کے پاس تمام فلیورز موجود ہیں، سیاسی، قومی، علاقائی، مذہبی، ان سب کو اکٹھا ہونے سے روکنا ہی اصل کامیابی ہو گی، لیکن موجودہ حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن مہنگائی ہے۔

Share this story

Leave a Reply