کیا ابھی وقت نہیں آیا

Share this story

کیا ابھی وقت نہیں آیا 

اوریا مقبول جان 

 

تنہائی اور دنیا سے کٹ کر زندگی گزارنا، شاید گیان حاصل کرنے والوں کے لیے ایک نعمت ہوتی ہوگی، لیکن انسانی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ قیدِ تنہائی میں اگر ذرا سی بھی لذت ہوتی تو یہ صدیوں سے سزا کے طور پر متعارف نہ ہوتی۔ گذشتہ ایک مہینے کی پابندیاں کسی طور پر بھی مکمل قیدِِ تنہائی تصور نہیں کی جاسکتی۔ مگر “شہر اداس اور گلیاں سونی” والی کیفیت آدمی کو ایک وسیع قید خانے میں لے جاتی ہے۔ ایک ایسا وسیع قید خانہ کہ جس میں دن کا وقفہ ہوا ہے۔ قیدی اپنی اپنی بیرکوں سے نکل کر ٹہل خوری میں مصروف ہیں۔ ہر کوئی من پسند افراد کی ٹولیوں میں بیٹھا وقت کاٹ رہا ہے۔ اس بڑے قید خانے میں کچھ قیدی ایسے بھی ہیں، جن کی سزائے موت کا اعلان ہوچکا ہے، انہیں باقیوں سے الگ کرکے مکمل قید تنہائی والے کمروں میں ڈال دیا گیا ہے۔ کیفیت بالکل ویسی ہی ہے کہ ان سے محبت کرنے والے بھی بے بس ہیں۔ فیصلہ کائنات کی سب سے بڑی عدالت کے ہاتھ میں ہے، جو خود ہی سزا دیتی ہے اور اس کی اپیل بھی وہی سنتی ہے کیا کسمپرسی ہے کہ آدمی ویسے ہی دفن کر دیا جائے جیسے فساد خلق پھیلنے کے خطرے سے، خطرناک قیدیوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا جاتا ہے، یا پھر چند لوگوں کی موجودگی میں دور دراز کسی منتخب جگہ پر ان کی قبر بنا دی جاتی ہے۔

جیل کی زندگی بڑی عجیب ہوتی ہے۔ اس جگہ چہچہانے والے پرندے بہت حسین لگتے ہیں۔ کوئل کی آواز جس پر کبھی زندگی بھر کسی نے توجہ نہ دی ہو، جیل کے سناٹے میں آدمی کو اسکے چہکنے کا وقت تک معلوم ہوتا ہے۔ جیل کی رات بہت مہیب ہوتی ہے۔ بیرک کی کھڑکی میں سے چاند کے طلوع ہونے کا منظر سہارا ہوتا ہے اور جس دن، رات بادلوں کی وجہ سے اندھیری ہو جائے تو یوں لگتا ہے آج ساتھ چلنے والا ہم سفر نہیں آیا۔ وہ آوازیں جو عام زندگی میں بری لگتی ہیں جیل کے سناٹے میں ان سے بھی انسیت پیدا ہوجاتی ہے۔ دور سے آتی ہوئی الّو کی چیخ، کتوں کا بھونکنا اور مسلسل جھینگر کی آواز، کیا سب کچھ ویسا نہیں ہے۔

کہنے کو تو پوری دنیا یہ کہے جا رہی ہے کہ یہ ایک “خود اختیار کردہ تنہائی” ہے۔ لیکن یہ کیسی خود اختیار کردہ تنہائی ہے کہ جس کے ختم ہونے کا کسی کو علم ہے نہ اندازہ۔ پرانے زمانے میں بادشاہوں کی جیلیں ایسی ہوا کرتی تھیں۔ کسی سے ناراض ہوئے تو اسے زیر زمین تہہ خانوں میں قید کردیا اور بھول گئے۔ ایسے میں قیدی بھی رہائی کی امید سے مایوس ہوجاتا ہے۔ البتہ کچھ امید کے دیئے آنکھوں میں ضرور جلتے رہتے ہیں۔ مثلا بادشاہ کے ہاں کوئی ولی عہد پیدا ہو، وہ کسی دشمن پر فتح حاصل کرے، کسی بیماری سے نجات پائے یا پھر اچانک ہی ایک دم خوش ہوکر کچھ قیدیوں کی رہائی کا اعلان کر دے۔ ایسے ہی دنیا پر بسنے والے اربوں انسان آج اسی طرح کے کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ یہ معجزہ کیسے ہو سکتا ہے، کون کرے گا اور کب اس پوری انسانیت کو اس عالمی قید خانے سے نجات دلائے گا۔ انسان ہمیشہ سے گھمنڈ اور قوت بازو پر بھروسہ کرنے والوں اور خالق پر توکل کرنے والوں کے درمیان تقسیم رہا ہے۔ صدیوں پہلے اللہ کو للکارنے والے بادشاہ اور صاحب قوت و حیثیت لوگ ہوا کرتے تھے۔ تمام پیغمبروں کا ایسے طاقتور زمینی خداؤں کے ساتھ جب بھی مکالمہ ہوا، انہوں نے یہی دعوی کیا کہ وہ خدائی صفات رکھتے ہیں اور کوئی اس سرزمین پر ان سے زیادہ طاقتور ہے تو دکھا دو۔ سیدنا ابراہیمؑ کا وہ مشہور مکالمہ اللہ رب العزت نے قرآن میں یوں درج کیا ہے، ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی وہ اپنےپروردگار ہی کے وجود کے بارے میں ابراہیم ؑسے بحث کرنے لگا۔ جب ابراہیم ؑنے کہا کہ میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی تو وہ بھی کہنے لگا میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ۔ اس پر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا (البقرہ:258)۔ ایسے بادشاہوں کی قوت، طاقت، ہیبت، جلال اور طنطنہ بھی انسانی تاریخ میں بار بار بے بس نظر آیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ان کو کائنات پر اتنا بھی تصرف نہیں کہ، ” آپ کہہ دیجئے اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے پینے کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے نتھرا ہوا پانی لائے” (الملک:30)۔ لیکن جدید دنیا کا انکار بادشاہوں کی طاقت وقوت کا انکار نہیں ہے بلکہ اللہ کی عطا کردہ ذہانت کے امین فلسفیوں اور سائنسدانوں کا انکار ہے۔ آج کے دور میں الحاد کی بنیادیں سائنسی ترقی میں چھپی ہیں۔ انسان چاند پر جا پہنچا، مریخ پر کمندیں ڈالنا، پانی کا رخ موڑ کر بجلی پیدا کرنا، زمین سیراب کرنا، زلزلوں میں ایسی پناہ گاہیں بنانا کہ زلزلے کی قوت بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اس نے لاکھوں لوگوں کی قاتل خوفناک وباؤں پر قابو پا لیا۔ اس سب نے انسان کو گھمنڈی اور جھگڑالو بنا دیا ہے۔ وہ چاہے تو فضاؤں میں موجود بادلوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے مصنوعی بارش برسا دے اور چاہے تو آسمان پر ابابیلوں کی طرح ڈرون بھیجے اور سب کچھ تباہ و برباد کر دے۔ اللہ نے انسان کو ذہانت عطا کی، ورنہ وہ اتنا کمزور تھا کہ جنگلی جانور اس کا ویسے ہی شکار کیا کرتے تھے جیسے وہ دیگر معصوم جانوروں کا آج بھی کرتے ہیں۔ اس نے اللہ کی عطا کردہ عقل، بصیرت اور علم سے دنیا کو زیر کیا اورپھر ویسے ہی ان بادشاہوں کی طرح پکاراٹھا کہ اگر کوئی ہم سے بڑی طاقت ہے تو دکھاؤ۔ صدیوں پہلے جب کبھی انسان اپنی طاقت کو حتمی اور آخری سمجھنے، اس پر فخر کرنے لگتا تو اللہ اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجتا۔ لیکن سید الانبیاء ﷺ کے آخری نبی اور خاتم النبین ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اب اللہ خود زمین پر ایسی نشانیاں اتارتا ہے جو گھمنڈی، متکبراور جھگڑالو انسان کو بے بس کردیتی ہیں۔ کرونا ان نشانیوں میں سے ایک ہے۔

آج ہر کوئی اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے گھر کی دہلیز، بالکونی یا کھڑکی میں کھڑا اس سناٹے کو غور سے دیکھ رہا ہے۔ خالی رستوں کا سناٹا، بازاروں کی خاموشی اور عشرت کدوں کی ویرانی۔ آج دنیا بھر میں ایسا ہی ہے، لیکن شہروں کی گلیوں میں آج ٹرینوں، کاروں اور بسوں کے ہارن کم سنائی دیتے ہیں، ایمبولینسوں کے سائرن زیادہ گونجتے ہیں۔ کسی تیز بھاگتی ایمبولینس کا سائرن گھروں میں بیٹھے لوگوں کے دلوں میں لاتعداد وسوسے اور واہمے جنم دے دیتا ہے، سوچنے لگتا ہے، ہو سکتا ہے کوئی موت کی سمت رواں ہے یا پھر زندگی کی بازی ہار چکا ہے یا موت کو شکست دے کر صحتمند حالت میں واپس اپنے گھر لوٹ رہا ہے۔ اس پوری دنیا کے سناٹے میں میرے اللہ کی پکار گونج رہی ہے، انسانوں کو اپنی جانب بلا رہی ہے، ” کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الہی سے اور جو حق نازل ہو چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں ” (الحدید:16)۔ جس طرح جیل کی تنہائیوں میں امید کی ڈور فیصلہ کرنے والے کے سامنے عجز کے ساتھ بندھی ہوتی ہے اور آخری امید رحم کی اپیل ہوتی ہے۔ اسی طرح آج کے اس عالم تنہائی میں صرف “خشیت” یعنی اللہ کے خوف سے کانپ کر اس سے فریاد کرنا ہی سزا کا خاتمہ یا اسکی مدت میں کمی کرسکتا ہے۔

Share this story

Leave a Reply