ہٹلر کے ناقابل معافی اقدامات

Share this story

ہٹلر کے ناقابل معافی اقدامات 

اوریا مقبول جان 

 

جدید مغربی تہذیب اور سودی معیشت کے آج تک کے قابل نفرت افراد میں سے ہٹلر کا نام سرفہرست ہے۔ گزشتہ سو سالوں میں کسی ایک فرد، اس کے نظریے اور پارٹی کو اس قدر شدید نفرت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف جو اقدامات اٹھائے ان کے لئے باقاعدہ ایک اصطلاح ہولوکوسٹ (Holocaust) تخلیق کی گئی۔ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ایک ایسی تباہی یا قتل عام جو پوری آبادی کی سطح پر کیا جائے، آج یہ اصطلاح صرف اور صرف ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کے لئے مخصوص کر دی گئی ہے۔ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں اس نام سے ایک بہت بڑا میوزیم قائم ہے، جس میں ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے، ان کی تصاویر اور دیگر نوادرات کو جمع کیا گیا ہے۔ جس کسی کو ظالم اور نظریاتی طور پر سخت گیر کہنا ہو اسے فاشسٹ کہا جاتا ہے اور جس گروہ کو مطعون اور ملعون ٹھہرانا ہو اسے نازی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ہولو کوسٹ کے بارے میں جنگ عظیم دوم کے بعد جو کچھ دنیا کو بتایا گیا اور یہودیوں پر جو ظلم کی داستانیں بیان کی گئیں، لکھی گئیں یا فلمائی گئیں انہیں حرف آخر تصور کیا جانا ہے اور آج امریکہ، کینیڈا کے علاوہ یورپ کے تمام ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات کرنا، اس کے بارے میں ازسرنو تحقیق کرنا یااس کی حقیقت کا کھوج لگانا، سب کے سب قابل تعزیر جرائم ہیں، جن کی باقاعدہ سزائیں مقرر ہیں، مقصد صرف ایک ہے کہ کہیں ازسرنو تحقیق کے نتیجے میں ہٹلر کی کوئی خوبی یا نیک نامی سامنے نہ آ جائے یا پھر کہیں اس حقیقت سے پردہ نہ اٹھ جائے کہ ہٹلر نے تو اتنے مظالم نہیں کئے تھے اور یہ محض ایک یہودی پراپیگنڈہ ہے۔ اس قدر نفرت اور اس نفرت کے تحفظ کے لئے قانون سازی ہٹلر کے سوا کسی اور شخصیت کے حصے میں نہیں آئی۔

ہٹلر کے ناقابل معافی جرائم کون سے ہیں؟ اگر صرف یہودیوں کا قتل عام ہی اس کی فرد جرم ہے تو یہ جرم تو دوہزار سالہ تاریخ میں بار بار ہوا اور ہٹلر سے کہیں زیادہ شدت سے ہوا۔ کوزاکوں نے اپنے ظالم رہنما بورس کوزاک کی سربراہی میں جب 1648ء میں پولینڈ اور یوکرین پر قبضہ کیا تو تین سو یہودی آبادیوں کو انتہائی ظلم اور بربریت سے تہہ تیغ کیا۔ یہودیوں کو رائفلیں پکڑا کر ایک دوسرے پر فائر کروایا گیا۔ لاکھوں عورتیں اور بچے جو باقی رہ گئے تھے، ایک بہت بڑی قبر ہر آبادی میں کھودی گئی اور اس میں ان کو زندہ دفن کر دیا گیا۔ اسی طرح جب مسلم سپین پر 1492ء میں فرڈیننڈ اور ازابیلا نے قبضہ کیا تو ان پر تشدد کی سیاہ رات چھا گئی، جو ستر ہزار یہودی خوف سے عیسائی ہو گئے۔ انہیں روزانہ زبردستی سؤر کا گوشت کھانے اور ہفتے کے دن کاروبار کرنے کے لئے کہا گیا۔ سپین پر ڈھائے گئے ان مظالم کے پیچھے یورپ میں یہودیوں سے نفرت کی ایک تاریخ تھی۔ جلاوطنیوں کے سلسلے میں یہودی 1421ء میں ویانا اور لنز سے نکالے گئے 1424ئمیں کولون سے، 1439ء میں آگسبرگ سے، 1442ء میں باویریا سے اور 1454ء میں موراویا سے انہیں جلا وطن کر دیا گیا۔ اسی طرح 1485ء میں پیروگیا، 1486ئمیں ویسی نزا، 1488ئمیں پارما، 1489ء میں میلان اور لوکا، اور 1494ء میں ٹسکنی جیسے بڑے شہروں سے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ دربدر کر دیا گیا۔ ان تمام علاقوں کے حکمرانوں، ظالموں اور یہودیوں کا بدترین اور انسانیت سوز قتل عام کرنے والوں کو کبھی اسقدر قابل نفرت بھی نہیں سمجھا گیا کہ ان کے نام ہی تاریخ میں نفرت کے طور پر محفوظ کر لئے جاتے۔ لیکن ہٹلر آج تک نفرت کی علامت ہے، اس کا نظریہ اور اس کی پارٹی بدترین تاریخی تعصب کا مسلسل شکار ہے۔

ہٹلر دراصل تاریخ انسانی کے اس موڑ پر نمودار ہوا جب جنگ عظیم اول میں اتحادی افواج نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی، جس کے نتیجے میں اس دنیا میں ایک عظیم منصوبے کے تحت سودی، دجالی مغربی تہذیب کا جنم ہو رہا تھا۔ قومی ریاستیں، پاسپورٹ، ویزا ریگولیشن، جمہوریت، بنک، کاغذی کرنسی، تحریک نسواں، فیشن اور فحاشی اور ایسے بے شمار تصورات عملی شکل اختیار کر رہے تھے۔ یہ تمام تصورات صرف پندرہ سال کے عرصے میں یورپ اور امریکہ میں اپنی عملی تصویر معاشرے میں نافذ کر چکے تھے۔ ایسے میں 30جنوری 1933ء کو شکست خوردہ جرمنی کے شہر برلن میں اوڈلف ہٹلر نے چانسلر کا حلف اٹھایا۔ برلن شہر اس وقت اس نئی جنم لینے والی مغربی تہذیب کا مرکز تصور کیا جاتا تھا۔ اسے 20ء کی دہائی سے دنیا کا جنسی مرکز(sex Capital) کہا جاتا تھا۔ ہزاروں طوائفوں کے اڈے تھے جن میں لاکھوں طوائفیں تھیں، جوئے خانے، ہم جنس پرستی کے ٹھکانے، غرض ایسا سب کچھ وہاں موجود تھا جو جنسی آزادی کے نام پر طلب کیا جا سکتا ہے۔ ہٹلر کا پہلا سب سے بڑا تاریخی جرم یہ تھا کہ اس نے اس فحاشی و عریانی کے گڑھ برلن کو پاک صاف کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے کہا کہ یہ لاکھوں طوائفیں جرمنی کی تباہی کا راستہ ہیں۔ ان کے ذریعے لوگوں میں آتشک اور سوزاک جیسی امراض پھیلتی ہیں، جنہیں ہٹلر “جنسی طاعون” کا نام دیتا تھا۔ برلن کے اس جنسی بازار اور جوئے کے مراکز کا سارا کاروبار یہودیوں کے ہاتھ میں تھا۔ ہٹلر نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلا قانون یہ جاری کیا کہ فحش فلموں، جسم فروشی، ہم جنس پرستی، کسینو اور اس سے منسلک ہر قسم کے کاروبار پر پابندی ہو گی۔ اس کے نازی سپاہیوں نے ان کی آن میں برلن شہر کو اس گندگی اور غلاظت سے پاک کر دیا۔

ہٹلر کا دوسرا جرم زیادہ ناقابل معافی تھا۔ اس نے جب اقتدار سنبھالا تو دنیا کساد بازاری کے عالمی بحران سے گزر رہی تھی۔ تمام معیشتیں ڈوب چکی تھیں۔ حالت یہ تھی کہ آدمی گھر سے ڈبل روٹی لینے نکلتا تو دکان تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت اتنی بڑھ چکی ہوتی کہ اسے مزید پیسے لینے کے لئے گھر جانا پڑتا۔ جرمنی میں سود کا کاروبار عروج پر تھا جسے یہودی کنٹرول کرتے تھے۔ یہ خود ایک دوسرے کو سود کے بغیر قرض دیتے لیکن باقی لوگوں کا سود کے ذریعے خون چوستے اور یوں انہوں نے جرمنی کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا اور انہوں نے پوری معیشت پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ہٹلر نے فوراً سود پر پابندی لگا دی۔ دنیا اس وقت معاشی تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہی تھی مگر سود پر پابندی نے جرمن معیشت کو اس قدر مضبوط کیا کہ صرف چھ سال بعد جرمنی کی معیشت دنیا کی سب سے کامیاب اور مضبوط معیشت بن چکی تھی۔ اسے دنیا آج بھی معاشی معجزے کے طور پر جانتی ہے۔ یوں ہٹلر اس نتیجے پر پہنچا کہ یہودیوں نے جرمن قوم کی اخلاقیات اور معیشت دونوں کو منصوبہ بندی سے تباہ کیا ہے۔ سود کے بغیر جب جرمن معیشت دنیا کے سامنے ایک مثال بن کر ابھری تو اسے روکنے کے لئے صرف چھ ماہ بعد 1939ء میں دوسری جنگ عظیم جرمنی پر مسلط کر دی گئی جس کی کوکھ سے سات کروڑ لاشوں کے ڈھیر پر ورلڈ بنک، آئی ایم ایف کی سودی معیشت اور فحاشی و عرفانی اور جنسی بازار کی عمارت دوبارہ تعمیر کی گئی۔

Share this story

Leave a Reply