پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ججوں پر اعتراض کرنے والے ’تھوڑی احتیاط کریں اور طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے قانون سب سے طاقتور ہے اور عدالتیں قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کرتی ہیں۔ نامہContinue Reading

ٹوکیو اولمپکس 2020 کے لیے تیار کردہ ‘نیپون بڈوکن’ اسٹیڈیم۔ مقامی زبان میں جاپان کو ‘نیپون’ کہا جاتا ہے۔ ‘نیپون’ کو جاپان کا قدیم نام بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسٹیڈیم کا نام اسی مناسبت سے ‘نیپون بڈوکن’ رکھا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے “آزادی مارچ” سے آج گریز کا ارادہ ہے۔ ٹھوس معلومات تک رسائی کے بغیر جو دکھائی دے رہا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے تئیں اس موضوع پر کافی “تجزیہ” بگھارچکا ہوں۔ ریگولر اور سوشل میڈیاکی پھیلائی چسکہ فروشی کے سبب “تجزیہ” مگر آج کیContinue Reading

کرتارپور راہداری کی تعمیر اور اس کا بھارت کی سکھ برادری کے لئے کھولنا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل۔ اس کالم میں اس کی بابت اگرچہ میں نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ “خوف فسادِ خلق” کی وجہ سے نہیں بلکہ “حساس” سوالات اٹھانےContinue Reading

مسلم لیگ نواز کے قائد اور مریم بی بی رہا ہوچکے ہیں، شہباز شریف سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں اور اپنی ساری توجہ اپنے بھائی کی صحت اور مستقبل پر دے رہے ہیں، وہ فی الحال داخلی سیاست میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔ پارٹی دوسرے اور تیسرےContinue Reading

یاد ہے نہ وہ کیا دعوے کرتے تھے؟ جی ہاں وہ بڑی رعونت کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ فکر نہ کریں مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کی طرف مارچ کی جرأت نہیں کریں گے۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ مولانا کو کون روکے گا؟ وہ جواب میںContinue Reading

’’اِن جاہلوں کو اسلام آباد کون لے کر آیا ہے؟‘‘۔ یہ سوال ایک خاتون صحافی پوچھ رہی تھی جو غصے میں تھی۔ وہ مجھے فون پر شکایت کے انداز میں بتا رہی تھی کہ وہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی کوریج کے لئے پشاور موڑContinue Reading

حامد میر حامد میر پاکستان کا شہرِ اقتدار کنٹینروں کا دیار بن چکا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر کنٹینروں کی بھرمار ہے۔ یہ بڑے بڑے کنٹینر اُس خوف کا اظہار کر رہے ہیں جو شہر کے ایک کونے میں دھرنا دینے والے ہزاروں باریش افرادContinue Reading

عراق میں خراب معاشی صورتِ حال، کرپشن اور بے روزگاری کے خلاف جاری احتجاج کے دوران اتوار کو سیکڑوں افراد نے کربلا میں احتجاج کیا۔ اس دوران کچھ مشتعل مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے پر بھی حملہ کر دیا اور عمارت سے ایران کا پرچم اتار دیا۔