Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9749
    Shahid Masood
    Participant

    آذر بائیجان فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں آگ کے رکھوالے۔ آذر کے معنی آگ اور بائیجان آبادگان کی ایک اور شکل ہے جس کے معنی ہیں رکھوالے۔ لیکن یہ نام شروع کہاں سے ہوا اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔

    اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں زمین کی سطح پر جا بجا تیل چشموں کی صورت جمع ہو جاتا جن میں اکثر آگ کے شعلے بھڑکتے رہتے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لفظ آذر بائیجان دراصل اتر پتینہ کی ایک شکل ہے جو اس علاقے کا قبل از مسیح دور کا نام تھا اور سکندر اعظم کے ایک ایرانی جرنیل اترپتین کے نام پر رکھا گیا تھا۔

    لیکن جو وضاحت سب سے زیادہ قابل یقین لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ نام زرتشتوں کے دور سے چلا آرہا ہے جب جگہ جگہ مقدس آتش گاہوں میں دائمی شعلے جلتے نظر تھے۔ کہیں کہیں اس دور کے آثار اب بھی نظر آتے ہیں ۔ ان میں مشہور ترین سورا خانی کی آتش گاہ ہے جو دارلحکومت باکو سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پہ واقع ہے۔ اس کے وسیع دالان کی قدیم پتھروں کی دیوار اور دیوار کے ساتھ ساتھ بنے تنگ و تاریک حجرے اب بھی قائم ہیں جہاں پجاری اور زائرین ٹہرا کر تے تھے۔ لیکن افسوس کہ دائمی شعلہ اب صرف اسی وقت جلتا ہے جب میرے جیسا کوئی ضدی سیاح اس کا مطالبہ کرتا ہے۔ نگران باباژیو رشید نے بتایا کہ گیس کا بل بہت زیادہ ہوتا ہے جو آتش گاہ کو ملنے والے وظیفے میں پورا نہیں ہوتا چناچہ وہ شعلہ اب ہر وقت نہیں جل سکتا۔

    آذربائیجان کے موجودہ علاقے میں قدیم ترین انسانی آثار پتھر کے زمانے تک کے ملتے ہیں۔ یہ آثار مختلف غاروں میں محفوظ ہیں۔ شراب کی صراحیاں جو خشک ہو چکی ہیں، شہر خاموشاں اور مقابر میں ملی ہیں۔ یہ شراب تانبے کے دور میں بنائی جاتی تھی۔

    جنوبی قفقاز کو اکامینڈس نے 550 قبل مسیح میں فتح کیا تھا اور اس سے زرتشتی مذہب کو فروغ ملا۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کی آمد کے بعد یہاں دیگر ملحقہ علاقوں میں ایک مملکت قائم ہوئی۔

    عرب اموی خلیفہ نے ساسانیوں اور بازنطینیوں کو شکست دے کر قفقازی البانیہ کو فتح کر لیا۔ عباسیوں کے زوال کے بعد یہ علاقہ سالاریوں، ساجدی، شدادی، راوادی اور بائیدیوں کے قبضے میں رہا۔ 11 ویں صدی عیسوی کی ابتدا میں وسط ایشیا سے آنے والے ترک اوغدائی قبیلوں نے بتدریج اس علاقے پر قبضہ جمایا۔ ان بادشاہتوں میں سے پہلی بادشاہت غزنویوں کی تھی جنہوں نے 1030 میں اس علاقے پر قبضہ جمایا۔

    مقامی طور پر بعد میں آنے والے سلجوقیوں پر اتابک نے فتح پائی۔ سلجوقیوں کے دور میں مقامی شعرا جیسا کہ نظامی گنجوی اور خاگانی شیروانی نے فارسی ادب کو بام عروج تک پہنچایا۔ یہ سب آج کل کے آذربائیجان میں ہوا۔ اس کے بعد یلدرمیوں نے مختصر قیام کیا اور ان کے بعد امیر تیمور آئے۔ جس کی مدد نوشیرواں نے کی۔ امیر تیمور کی موت کے بعد یہ علاقہ دو مخالف ریاستوں میں بٹ گیا۔ ان کے نام کارا کوئینلو اور اک کوئینلو تھے۔ اک کوئینلو کی موت کے بعد سلطان اذن حسن نے آذربائیجان کی پوری ریاست پر حکمرانی کی۔ اس کے بعد یہ علاقہ شیرواں شاہوں کے پاس آیا جنہوں نے 861 سے 1539تک بطور خود مختار مقامی حکمران کے اپنی حیثیت برقرار رکھی۔ شیروانیوں کے بعد صفویوں کی باری آئی اور انہوں نے شیعہ اسلام اس وقت کی سنی آبادی پر زبردستی لاگو کیا۔ اس ضمن میں انہیں سنی عثمانیوں سے جنگ بھی کرنا پڑی۔

    کچھ عرصہ بعد صفویوں کے زوال کے بعد کئی خانوں نے مقامی طور پر اینی حکومتیں قائم کر لیں اور ان کی باہمی لڑائیوں کا آغاز ہو گیا۔ ترکمانچی کے معاہدے کے بعد کئی علاقوں پر روسی قبضہ ہو گیا۔ پہلی جنگ عظیم میں جب روس کے زوال کا وقت آیا تو آذربائیجان، آرمینیا اور جارجیا نے مل کر ایک الگ متحدہ ریاست قائم کی جو مختصر عرصہ تک قائم رہی۔ مئی 1918ء میں یہ ریاست ختم ہوئی اور آذربائیجان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور اپنا نام عوامی جمہوریہ آذربائیجان رکھا۔ اس ریاست کو دنیا میں پہلی مسلمان پارلیمانی ریاست ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ دو سال بعد روسیوں نے اس پر پھر سے قبضہ کر لیا۔ مارچ 1922ء میں جارجیا اور آرمینیا کے ساتھایک نئی ٹرانس کاکیشیئن ایس ایف ایس آر بنائی جو روسی فیڈریشن کے ماتحت تھی۔ 1936ء میں یہ بھی اپنے انجام کو پہنچی اور آذربائیجان بطور سوویت سوشلسٹ ریپبلک کے سوویت یونین میں شمولیت اختیار کی۔

    1940ء کی دہائی میں آذربائیجان سوویت سوشلسٹ ریپبلک نے جنگ عظیم دوم کے مشرقی محاذ کو تیل کی سپلائی کا فریضہ سر انجام دیا۔ اڈولف ہٹلر نے آپریشن ایڈیلویس شروع کیا تاکہ قفقازی تیل کے کنوؤں پر قبضہ کیا جا سکے۔ لیکن اس میں شکست ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری میخائل گورباچوف کی سیاسی پالیسیوں کے نتیجے میں پورے سوویت یونین میں بالعموم اور نگورنوکاراباغ میں بالخصوص بے چینی پھیل گئی۔ ایاز مطالی بوف نے آذربائیجان کے صدر کے عہدے کا حلف لیا اور 18 اکتوبر 1991ء کو آذربائیجان کی آزادی کا اعلان کیا گیا۔

    آزادی کے ابتدائی سال نگورنو کاراباغ کی آرمینیا سے ہونے والی جنگ کے باعث دھندلا گئے۔ جنگ کے اختتام پر آذربائیجان کو اپنے کل رقبے کا 14 سے 16 فیصد حصہ آرمینیا کو دینا پڑا جس میں نگورنگوکاراباغ بھی شامل ہے۔ اس وقت کے صدر نے اپنی شکست کو قبول کیا اور ان کے بعد آذربائیجان کمیونسٹ پارٹی کے سابقہ پہلے سیکرٹری حیدرعلیوف نے اگلے صدر کا حلف اٹھایا۔

    آذری لوگ دیکھنے میں خوبصورت نقوش کے گورے چٹے لوگ ہیں اور ہر لحاظ سے یورپی لگتے ہیں لیکن تہذیب و تمدن ، ثقافت اور رہن سہن کے لحاظ سےترکوں کے بہت قریب ہیں اور اپنے آپ کوترک قوم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ باکو کی ایک جا نی پہچانی تجزیہ نگار لیلیٰ علیژیوہ کا کہنا تھا کہ مذہبی لحاظ سے آذری قوم شیعہ ہونے کے ناطے ایران کے قریب ہونی چاہئے لیکن ہمارا تشخص سلجوک ترکوں اور سلطنت عثمانیہ کی دین ہے اور ہم اپنے آپ کو نسلی لحاظ سے ترک ہی تصور کرنے ہیں۔

    حال ہی میں ترکی کے صدر نے اپنے آذربائجان کے دورے کے موقعے پر کہا تھا کہ ترکی اور آذربائجان دو ملک لیکن ایک قوم ہے اور یہ بات آذریوں کو بہت پسند بھی آئی کیو نکہ ان کے جذبات کی صحیح عکاسی کرتی ہے۔

    آذری زبان بھی ترکی اور فارسی کا مجموعہ ہے اور ایکبار اس سے کان مانوس ہو جائیں تو یوں لگتا ہے کہ لوگ آدھی اردو بول رہے ہیں اور یہ قربت اور مانوسیت صرف زبان تک ہی محدود نہیں ، مغلوں کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کا اس علاقے سے گہرا تعلق ہے اور وہ تاریخی ورثہ جسے ہم اپنے آباؤاجداد کی ملکیت سمجھتے تھے معلوم ہوا کہ وہ دراصل وسطی ایشیا اور خطہ قفقاز کے دوسرے ملکوں کی طرح آذربائیجان سے منسلک ہے۔

    • اقتباسات: 
      آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
      ارجمند واجد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.