Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #8506
    admin
    Keymaster

    اس زمانہ میں احکام اور حدیثِ نبوی کو جاننے کے لیے بجز اس کے کوئی راہ نہیں کہ فن حدیث میں لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔ آج ایسی کوئی روایت موجود نہیں، جو قابلِ اعتماد ہو اور وہ حدیث کی کتابوں میں نہ آگئی ہو؛ اس لیے اب معرفتِ حدیث کا مدار کتبِ حدیث پر ہے، کتبِ حدیث مختلف مراتب کی ہیں، سب ایک درجہ اورایک مرتبہ کی نہیں؛ بلکہ حدیثیں جمع کرنے والوں میں بعض کا مقصد صرف صحیح حدیثوں کا انتخاب تھا، جیسے صحیح بخاری وصحیح مسلم اور بعض کا مقصد حدیث کے ساتھ مستدلاتِ فقہاء کو جمع کرنا تھا، جیسے سنن ترمذی اور بعض کا مقصد جملہ روایات کو جمع کرنا تھا، خواہ وہ کیسی بھی ہوں، جیسے مسند ابویعلی، مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ۔ ایسی صورت میں ان احادیث سے مسئلہ مسائل اخذ کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہوجاتا ہے کہ کون سی کتاب کس پایہ کی ہے اور اس پر اعتماد کس حد تک کیا جاسکتا ہے۔ یعنی مسئلہ مسائل صرف صحیح اور حسن درجہ کی روایات سے معلوم کیے جاسکتے ہیں؛ جب کہ فضائل ووعظ ونصیحت اور ترغیب وترہیب کے لیے ان روایات کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے جو از قبیلِ ضعیف ہیں؛ جب کہ موضوع روایت کو کسی بھی دینی مقصد کے لیے بیان کرنا جائز نہیں۔

              حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے کتبِ حدیث کو صحت وشہرت کی بنیاد پر چار طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں طبقہٴ اولیٰ کی وہ کتاب ہے جس میں صحت وشہرت دونوں باتیں کامل طورپر پائی جائیں اور ان دو صفات میں جتنی کمی ہوگی، اس کتاب کا مقام ومرتبہ بھی اسی مناسبت سے فروتر ہوگا اوراگر یہ دونوں باتیں کسی کتاب میں بالکل نہ ہوں تو وہ کتاب قابلِ اعتبار نہیں۔

    احادیث کی جامع کتابوں کی مختلف مراتب ومنازل میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے صحت و قوت کے اعتبار سے کتب حدیث کے پانچ طبقات بتائے ہیں۔

    حدیث کی چھ کتب صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ صحاح ستہ کہلاتی ہیں۔پہلی دو کتابیں صحیح بخاری، صحیح مسلم صحیحین کہلاتی ہیں، جبکہ آخری چار کتابوں سنن ابوداؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کو سنن اربعہ کہتے ہیں۔ بعض علماء موطا امام مالک کو بھی صحیح ستہ کے درجہ میں رکھتے ہیں۔  

     

    صحاح ستہ، حدیث کی 6 بنیادی کتابیں۔

    1. صحیح بخاری – محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ)
    2. صحیح مسلم – مسلم بن حجاج (المتوفی 261ھ)
    3. سنن نسائی –  احمد بن شعیب النسائی (المتوفی 303ھ)
    4. سنن ابی داؤد – ابو داؤد السجستانی (المتوفی 275ھ)
    5. سنن ترمذی – ابوعیسی محمد ترمذی (المتوفی 279ھ)
    6. سنن ابن ماجہ – ابن ماجہ ابو عبد اللہ محمد بن یزید قزوینی(المتوفی 273ھ)

     

    کتب صحاح کے علاوہ کتابیں دیگر بنیادی کتب /اہم مجموعے

    1. موطأ امام مالک – امام مالک بن انس (المتوفی 179ھ)
    2. مسند احمد بن حنبل – امام احمد بن حنبل (المتوفی 241ھ)
    3. سنن الدارمی –   عبدالرحمن دارمی(المتوفی 255ھ)
    4. صحیح ابن خزیمہ – امام ابن خزیمہ (المتوفی 311ھ)
    5. صحیح ابن حبان – ابن حبان (المتوفی 354ھ)
    6. مستدرک علی الصحیین حاکم – حاکم نیشاپوری(المتوفی 405ھ)
    7. معجم الکبیر طبرانی  – امام طبرانی(المتوفی 360ھ)
    8. معجم الاوسط  طبرانی  – امام طبرانی(المتوفی 360ھ)
    9. معجم الصغیر طبرانی – امام طبرانی(المتوفی 360ھ)
    10. مسند الطیالسی – ابوداؤد طیالسی (المتوفی 204ھ)
    11. مستخرج صحیح ابو عوانہ (مسند ابو عوانہ) – ابو عوانہ الاسفرایینی (المتوفی 316ھ)
    12. مصنف ابن ابی شعبہ – ابن ابی شیبہ (المتوفی 235ھ)
    13. مصنف عبد الرزاق –  عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی (المتوفی 211ھ)
    14. الادب المفرد – محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ)
    15. سنن کبریٰ بیہقی (المتوفی 458ھ)
    16. شعب الایمان – بیہقی (المتوفی 458ھ)
    17. الشمائل المحمدیہ (شمائل ترمذی)- ابو عيسى الترمذی (المتوفی 279ھ)
    18. مصنف ابن جریج
    19. السنن الكبرى للنسائي –  احمد بن شعیب النسائی (المتوفی 303ھ)
    20. صحیفہ ہمام ابن منبہ – ہمام ابن منبہ (المتوفی 131ھ)
    21. تہذیب الآثار -ابن جریر الطبری (المتوفی 310ھ)
    22. کتاب الآثار – ابن جریر الطبری (المتوفی 310ھ)
    23. مسند – امام اعظم ابو حنیفہ (المتوفی 150ھ)
    24. مسند – امام شافعی (المتوفی 204ھ)
    25. مسند السراج
    26. مسند فردوس الدیلمی (المتوفی 558ھ)
    27. مسند ابو یعلیٰ – ابی یعلی الموصلی (المتوفی 307ھ)
    28. سنن سعید ابن منصور (المتوفی 229ھ)
    29. سنن دارقطنی (المتوفی 385ھ)
    30. مسند – عبد بن حمید (المتوفی 249ھ)
    31. کتاب الزہد – عبداللہ بن مبارک (المتوفی 181ھ)
    32. مسند– عبداللہ بن مبارک (المتوفی 181ھ)
    33. مسند – عبداللہ بن زبیرالحمیدی (المتوفی 219ھ)
    34. مسند – بزار (المتوفی 292ھ)
    35. الادب – ابن ابی شیبہ (المتوفی 235ھ)
    36. مسند اسحاق بن راہویہ (المتوفی 238ھ) 

              خلاصہ یہ کہ حدیث کے بغیر اسلام کا کوئی موضوع مکمل نہیں ہوسکتا؛ اس لیے محدثین نے حددرجہ حفاظت حدیث کا اہتمام کیا اوراس کے لیے نہایت قیمتی اصول وضع کیے اور اپنی پوری محنت، قابلیت اور اخلاص وعقیدت کے ساتھ اس کی ایسی خدمت کی کہ دنیا کی کوئی قوم اپنی قدیم روایات واسناد اور مذہبی سرمایہ کی حفاظت کی مثال نہیں پیش کرسکتی۔

              ابومحمد ابن حزم فرماتے ہیں: ”رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم تک اتصالِ سند کے ساتھ ثقات کا ثقات سے نقل، ایسی خصوصیت ہے جس سے اللہ پاک نے صرف اہل اسلام کو سرفراز فرمایا ہے، دیگر اقوام وملل اس سے تہی دست ہیں۔“ (الفصل فی الملل والاہواء والنحل ۲/۸۲)

              حافظ ابو علی جیانی فرماتے ہیں: تین چیزیں ایسی ہیں جو اللہ پاک نے خصوصیت کے ساتھ اس امت کو عطا کی ہیں۔ اس سے پہلے کسی کو یہ نہیں دی گئی ہیں: (۱) اِسناد (۲) اَنساب (۳) اِعراب“ (منہج النقد ص۳۶)

              محدثین کی گراں قدر کوششوں اور حدیث کی حفاظت واشاعت کی خاطر اپنے آپ کو گھلادینے کا نتیجہ ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وفرمودات کے قابلِ قدر مجموعے اپنی اصل اورحقیقی شکل میں امت کے ہاتھ میں موجود ہیں۔

         

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.