• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11830
    Syed Muhammad
    Moderator

    از:  مولانااسرارالحق قاسمی

     

              گزشتہ دوتین صدیوں سے عالمی پیمانے پر اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ کو مسخ کرنے کی جومہم چل رہی ہے، اس میں روز بروز تیزی ہی آتی جارہی ہے۔پہلے ایک جھوٹ یہ پھیلایاگیا کہ اسلام ایک انتہاپسند مذہب ہے اور اسے ماننے والے سارے کے سارے مسلمان انتہاپسند ہیں،دہشت گردی کا ہوا کھڑا کیاگیا اوراس میں بھی مسلمانوں کوہی ملوث کیاگیا۔رفتہ رفتہ ایسا ماحول بن گیا کہ دنیابھر میں جہاں کہیں کوئی قتل و غارت گری کا واقعہ رونما ہولوگوں کا ذہن فوراً کسی مسلمان کی طرف جاتا ہے اور عام طورپر نام نہاد تحقیقات کے نتائج بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔پھر اس دہشت گردی کو خود مسلمان ملکوں پر تھوپ دیاگیا؛چنانچہ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ محض گزشتہ دس سال کے اندرخلیج کا نقشہ کچھ سے کچھ ہوگیاہے،افریقی عربی ملک تہہ و بالا ہوچکے ہیں، اربوں کامالی اور کھربوں کاجانی نقصان ہوچکا ہے اور عام انسانی زندگی ہر لمحہ خطرات سے دوچار ہے؛حالاں کہ انتہاپسندی یا دہشت گردی کا مسلمانوں پر الزام خالص جھوٹ اور عالمی استعمار کی سازشوں کا حصہ تھا؛مگر اسے اتنی بار دہرایا گیاکہ ساری دنیا نے اس بات کو حقیقت کی طرح مان لیا؛ جب کہ اس وقت خود مسلمان اس دہشت گردی کے سب سے زیادہ شکا رہیں۔

              دوسری طرف دنیا میں ایک بڑا طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے، جومسلمانوں کواخلاقی طور پر پسما ندہ سمجھتا ہے۔گویا ان کی نظر میں مسلمان بد اخلاق ہیں، وہ لوگوں کے ساتھ صحیح برتائو نہیں کرتے ، وہ جھوٹ بولتے ہیں،وعدہ خلافی کرتے ہیں، آپس میں لڑتے ہیں اور وہ جرائم میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے بارے میں متعدد سوسائٹیوں میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے اور گندے رہتے ہیں، ان کی بستیوں میں غلاظت پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے مسلکی تنازعات اور باہمی اختلافات کو بھی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے بہت سے لوگ یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ مسلمان اپنی جہالت اور غیر مہذب ہونے کی وجہ سے باہم دست و گریباں رہتے ہیں اور ان کا معاشرہ آپسی جھگڑوںاور خانہ جنگیوںسے عبارت ہے۔اس طرح کی باتیں بناکر مسلمانوں کی شبیہ کو منفی انداز میں پیش کرنے کا عمل برابر جاری ہے، جس کا نقصان مسلمانوں کو ہر سطح پر اٹھانا پڑرہا ہے اور اگر یہ سلسلہ یوںہی جاری رہا تو انھیںمزید مسائل کا سامنا کرپڑسکتا ہے۔

              یہاں دوباتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ تمام الزامات جو مسلمانوں کے خلاف لگائے جارہے ہیں،صدفی صد درست نہیں؛بلکہ بعض الزامات تو محض مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ ہیں۔ جیسے کہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کا الزام؛کیونکہ مسلمان جس دین کی پیروی کرتے ہیں ، وہ امن کا داعی ہے اور نہ صرف امن وامان کی تعلیم دیتا ہے؛بلکہ امن کے قیام کے لیے ایک جامع و موثر نظام بھی پیش کرتا ہے ۔ اسلام کا امن پر مبنی یہ نظام اس قدر مستحکم اور موثر ہے کہ اگر اس کو آج کی دنیا میں جب کہ ہر طرف خوف و ہراس اور بدامنی پائی جاتی ہے ، نافذ کردیا جائے تو پوری دنیا میں امن کی ہوائیں چلنے لگیں گی۔ظاہر سی بات ہے کہ جو دین خود امن کا علمبردار اور دہشت گردی کا مخالف ہو ، اس کے ماننے والے کیسے دہشت گرد ہوسکتے ہیں؟ اس تناظر میں مسلمانوںکو بحیثیت قوم دہشت گردکہنا کھلی بد دیانتی اور زیادتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ اقوام و ملل جوتمام مسلمانوں پر بداخلاقی،  تاریک خیالی ، بد عنوانی ، جرائم اور انسانی قدروں کی پامالی کا الزام لگاتی ہیں وہ خود اپنا محاسبہ کریںکہ وہ جرائم میں ملوث ہیں یا نہیں ، بدعنوانی ، چوری، ڈکیتی ، قتل و غارت گری ، کذب گوئی ، بد اخلاقی اور انسانیت کی پامالی ان میں پائی جاتی ہے یا نہیں؟ جس بڑے پیمانہ پر آج خود کو مہذب کہنے والی قومیں بدعنوانی کی مرتکب ثابت ہیں اور انسانیت کا گلا گھونٹ رہی ہیں ، انھوں نے دنیا کو نت نئے مسائل سے دوچار کر دیا ہے اور تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ان اقوام کو چاہیے کہ وہ بے حیائی ، فحاشی ، زناکاری ، ناانصافی ، فریب دہی اور اپنے مفاد کے لیے دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے سے باز آئیں ؛ تاکہ دنیاتباہی سے بچ سکے۔

              البتہ ہمیں اس حقیقت کو ایک حد تک تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسلم معاشرے میں اخلاقی اعتبار سے بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں۔بحیثیت مذہب کے اسلام نے تو پوری انسانی زندگی کاایک نظام ہمیں دیاہے؛مگر اس نظام پر عمل کتنا کیاجارہاہے، یہ قابلِ غور ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ سچ بو لو، وعدہ پورا کرو ، عہد شکنی نہ کرو، باہم مت جھگڑو ، بھائی بھائی بن کر رہو،کسی کا دل مت دکھائو، جو لوگ ضرورت مند ہیں ان کی ضرورتوں کو پورا کرو، انصاف قائم کرو، کسی پر زیادتی مت کرو، حقوق کو پورا کرو،عورتوں کے حقوق کو بھی، پڑوسیوں کے حقوق کو بھی، محلہ والوں کے حقوق کو بھی ،مسلمانوں کے حقوق کو بھی اور غیرمسلموں کے حقوق کو بھی۔ کسی کا قتل مت کرو،چوری نہ کرو، زنا کے قریب بھی مت جائو ، بے حیائی سے دور بھاگو، حلال رزق کھائو، اخوت و مساوات کا مظاہرہ کرو،اپنے بچوں کی اچھی طرح تربیت کرو،امانت ودیانت داری کواور ظاہری وباطنی صفائی کو اپنا شعار بنائو،دنیا اور آخرت دونوں جہان میں کامیاب ہونے کی فکر ودعا کرو؛مگر آج ایسے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے؛بلکہ ایسے ہی لوگ زیادہ ہیں جن کی زندگیوں میں اسلام نظر نہیں آتا، بہت سے لوگ ہمیں ایسے دکھائی دیتے ہیں ، جو بدعنوانی اور جرائم میں بھی ملوث ہیں، بہت سے ایسے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ جن کے اخلاق بہترین نہیں ، ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو کذب گوئی ، وعدہ خلافی اور عہد شکنی میںآگے آگے رہتے ہیں، ناانصافی ،عدم مساوات ، اونچ نیچ کا فرق ،باہمی تنازعات اور بدکرداری بھی ہمیں مسلمانوں میں خوب نظرآتی ہے اور مسلم معاشرہ میں بعض ایسی چیزیں صاف دکھائی دیتی ہیں جو اسلام کے منافی ہیں اور انسانیت کے بھی۔ بھلے ہی یہ ساری باتیں دیکھنے میں کتنی ہی چھوٹی نظر آئیں ؛ مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے کافی بڑی ہیں اور اسلام ومسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کا سامان فراہم کر رہی ہیں؛اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم اپنی عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو نافذکریں اور اپنے انفرادی و اجتماعی کردار کو بہتر و بلند کرنے کے لیے ان تمام اصولوں پر عمل کریں ،جن کی طرف قرآن و سنت میں ہدایت کی گئی ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرن اول میں حیرت انگیز تیزی کے ساتھ اسلام کے دنیاکے ایک بڑے حصے میں پھیلنے کی ایک بڑی وجہ اس زمانے کے مسلمانوں کا پختہ اور مثالی کردار واخلاق بھی تھا،بڑے سے بڑا دشمن ان کے کردار کو دیکھ کر دوست بن جاتا تھا اور کٹر مشرک اور کافر بھی کلمہ پڑھ کر دامنِ اسلام سے وابستہ ہوجاتا تھا۔افسوس کہ آج ہمارے اخلاق و کردار کو دیکھ کر دوسرے مذہب کے لوگ متاثرہونے کے بجائے بدظن ہوتے ہیں اوروہ ہماری بدعملیوں کا رشتہ سیدھے اسلام سے جوڑتے ہیں؛حالاں کہ اسلام کی تعلیمات تو آج بھی اپنی جگہ مبنی بر صداقت ہیں اور ان کی بنیاد خالص خدائے تعالیٰ کی وحی اور انسانیت کے عالمگیر جذبے پر قائم ہے،بس ضرورت یہ ہے کہ جس طرح قرن اول کے مسلمانوں نے انھیں اپناکردین کی سربلندی و مقبولیت کا پرچم لہرایاتھااسی طرح اگر آج کے مسلمان بھی ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں اتارلیں تو نہ صرف یہ کہ اسلام کے تئیں لوگوں کی بدگمانی دور ہوجائے گی؛ بلکہ وہی لوگ اسلام کے قریب آناچاہیں گے،جوآج اس سے وحشت زدہ ہیں۔


    محمد اسرار الحق قاسمی (15 فروری 1942ء – 7 دسمبر 2018ء) بھارت کے صوبہ بہار کے ایک عالم دین، سیاست دان، کالم نگار اور کشن گنج نشست سے رکن پارلیمان تھے۔ نیز جمعیت علمائے ہند کے صوبائی صدر، آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر، دار العلوم دیوبند کے رکن شوریٰ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن بھی رہے۔ سیمانچل کے پسماندہ علاقے کی ترقی و بہبود کے لیے انہوں نے آل انڈیا ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن قائم کیا۔ ساتھ ہی کشن گنج میں ایک بڑے قطعہ اراضی پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ بھی قائم کی۔ بھارت کے اردو اخبارات میں اکثر ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے۔

     

    بشکریہ ماہ نامہ دار العلوم، دیوبند

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.